سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 216 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 216

واقعہ افک: غزوہ بنو مصطلق سے واپسی پر ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔بعض منافقین نے ایک جھوٹ حضرت عائشہ کی طرف منسوب کر کے اسکی بہت زیادہ تشہیر کی جسکی وجہ سے آنحضور صلی للی نم اور حضرت عائشہ کو شدید صدمہ پہنچا اور تمام مسلمانوں کو بھی اس جھوٹے الزام کے پھیل جانے سے بہت تکلیف ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اس الزام سے أم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ کی بریت فرمائی۔اس الزام کو بعض مخلص صحابہ نے بھی سادگی اور لا علمی سے سچ سمجھ لیا۔آپ نے اس واقعہ کا ایک جگہ ضمنا ذکر فرمایا ہے۔اس ارشاد میں ہمارے لئے ان صحابہ کے متعلق بھی رہنمائی ہے جو اس معاملہ میں اپنی سادگی اور لاعلمی سے شامل ہو گئے تھے۔نیز تہمت لگانے والے منافقین کے عمل کو خباثت کا نام دے کر انکی مذمت فرمائی ہے۔اور ایک فقہی نکتہ اور اسلامی اخلاقیات کا بھی ذکر فرمایا ہے۔”اس نا سمجھ کو یہ بھی تو خبر نہیں کہ جیسے خدا تعالیٰ نے اپنے اخلاق میں یہ داخل رکھا ہے کہ وہ وعید کی پیشگوئی کو توبہ و استغفار اور دعا اور صدقہ سے ٹال دیتا ہے اسی طرح انسان کو بھی اس نے یہی اخلاق سکھائے ہیں جیسا کہ قرآن شریف اور احادیث سے یہ ثابت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی نسبت جو منافقین نے محض خباثت سے خلاف واقعہ تہمت لگائی تھی اس تذکرہ میں بعض سادہ لوح صحابہ بھی شریک ہو گئے تھے۔ایک صحابی ایسے تھے کہ وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر سے دو وقتہ روٹی کھاتے تھے۔حضرت ابو بکر نے ان کی اس خطا پر قسم کھائی تھی اور وعید کے طور پر عہد کر لیا تھا کہ میں اس بے جا حرکت کی سزا میں اس کو کبھی روٹی نہ دوں گا۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی تھی وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ تب حضرت ابو بکر نے اپنے اس عہد کو توڑ دیا اور بدستور روٹی لگادی۔اسی بنا پر اسلامی اخلاق میں یہ داخل ہے کہ اگر وعید کے طور پر کوئی عہد کیا جائے تو اس کا توڑ نا حسن اخلاق میں داخل ہے۔مثلاً اگر کوئی اپنے خدمتگار کی نسبت قسم کھائے کہ میں اس کو ضرور پچاس جوتے ماروں گا تو اس کی توبہ اور تضرع پر معاف کرنا سنتِ اسلام ہے تا تخلق با خلاق اللہ ہو جائے مگر وعدہ کا تخلف جائز نہیں۔ترک وعدہ پر باز پرس ہو گی مگر ترک دعید پر نہیں “ (ضمیہ براہین احمدیہ ، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 181) 216