سیرة النبی ﷺ — Page 171
کہ یہ خطوط نعوذ باللہ محمد صلی للی یکم نے اپنی فتوحات کے پیش نظر آئندہ امکانی حیثیت یعنی عرب کے بادشاہ بننے کی امید سے لکھے تھے۔مثلاً ان مستشرقین میں سے منٹگمری واٹ لکھتا ہے کہ : If Mohammad wrote letters to the heads of neighbouring states after al-Hudabiyah that would suggest that it was about this time that he became conscious of having overcome all serious opposition۔It may also be that in accordance with pre-islamic custom the use of title like Mohammad the prophet and the messanger of God involved a clame to political leadership۔(¹) اس قسم کے اعتراض کو حضور نے مندرجہ بالا ارشاد میں مختصر الفاظ میں لیکن نہایت پختہ دلیل سے رد فرما دیا ہے کہ بادشاہوں کو خطوط لکھنا آپ صلی علی کرم کے منصب رسالت میں شامل تھا کیونکہ آپ تمام دنیا کے انسانوں کے لئے مبعوث کئے گئے تھے۔دوم یہ کہ فعلی شہادت اس بات پر دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ ہم کو یہ کام کرنے کی توفیق ملی اور تبلیغ کے لئے خدا تعالیٰ نے آپ صلی یی کم کو ذرائع بھی عطا فرما دے۔اس کے مقابل باقی انبیاء جن کو یہ منصب عالمگیر تبلیغ کا نہیں سونپا گیا تھا انکو وہ ذرائع بھی میسر نہ آئے۔آنحضور صلی اللہ علم کی ایک حیثیت رسول اللہ کی تھی اور ایک خاص نعمت آپ صلی الی ظلم کو بادشاہ ہونے کی بھی عطا کی گئی تھی۔مدینہ کی ریاست کے بادشاہ تھے۔اور اس دور میں تو مدینہ کی ریاست عرب کی ایک مضبوط ریاست تسلیم کی جاچکی تھی کیونکہ مکہ والوں نے بھی معاہدہ حدیبیہ پر دستخط کر کے مدینہ کی ریاست اور نبی اکرم صلی یکم کو اسکا بادشاہ ہونا تسلیم کر لیا تھا۔اس کے باوجود آنحضور ملی یکم کو بادشاہ کہلوانے کا شوق نہ تھا اسی لئے آپ صلی الی یکم نے دنیوی رسوم کی خاطر جب انگوٹھی بطور مہر بنوائی اس پر اپنا لقب بادشاہ کا نہیں بلکہ محمد رسول اللہ لکھوایا۔قیصر روم کے نام خط: قیصر روم کو جو خط لکھا گیا اس کے متعلق آپ ایک جگہ فرماتے ہیں۔اس مجمل بیان کی تفصیل یہ ہے کہ جیسا کہ صحیح بخاری کے صفحہ ۵ میں مذکور ہے۔آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خط دعوتِ اسلام کا قیصر روم کی طرف لکھا تھا اور اُس کی عبارت جو صفحہ مذکورہ بخاری میں مندرج ہے یہ تھی۔بِسْمِ اللهِ الرَّحمن الرّحيم من محمد عبد الله ورسوله الى هرقل عظیم 171