سیرة النبی ﷺ — Page 170
باب ششم صلح حدية سلاطین کو تبلیغی خطوط کے بعد آنحضور صلی علیم نے عرب کے ہمسایہ ممالک کے بادشاہوں کو تبلیغی خطوط بھجوائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان میں سے بعض خطوط کا اپنی تحریرات میں ذکر فرمایا ہے۔جن میں ان خطوط کے بھجوانے کی اہمیت و حکمت پر روشنی ڈالی ہے۔آپ نے یہ ثابت فرمایا ہے کہ اسلام کا مشن عالمگیر تھا اور تمام انبیاء میں آنحضور صلی میں کم ہی کا مقام ہے کہ آپ میلی لیہ کی تمام عالم کے لئے رسول بنا کر بھیجے گئے اور اس منصب کو آپ صلی الم نے خطوط لکھ کر بھی پورا فرمایا۔جیسا کہ فرمایا: قرآن شریف نے ہی کھلے طور پر یہ دعویٰ کیا ہے وہ دنیا کی تمام قوموں کے لئے آیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے قُل يَأَيُّها الناسُ إِنّى رسولُ اللهِ إِلَيكُم جميعًا یعنی تمام لوگوں کو کہہ دے کہ میں تم سب کے لئے رسول ہو کر آیا ہوں اور پھر فرماتا ہے وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةٌ لِلْعَالَمِینَ یعنی میں نے تمام عالموں کے لئے تجھے رحمت کر کے بھیجا ہے۔اور پھر فرماتا ہے لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نذيراً یعنی ہم نے اس لئے بھیجا ہے کہ تمام دنیا کو ڈراوے۔لیکن ہم بڑے زور سے کہتے ہیں کہ قرآن شریف سے پہلے دنیا کی کسی الہامی کتاب نے یہ دعویٰ نہیں کیا بلکہ ہر ایک نے اپنی رسالت کو اپنی قوم تک ہی محدود رکھا۔۔۔اور زمانہ کے حالات نے بھی گواہی دی کہ قرآن شریف کا یہ دعوی تبلیغ عام کا عین موقعہ پر ہے کیونکہ آنحضرت صلی انم کے ظہور کے وقت تبلیغ عام کا دروازہ کھل گیا تھا اور آنحضرت صلی الم نے خود اپنے ہاتھ سے بعد نزول اس آیت کے کہ قُل يَأَيُّهَا النَّاسُ انّى رَسُولُ اللهِ اليكم جميعا دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کیطرف دعوت اسلام کے خط لکھے تھے کسی اور نبی نے غیر قوموں کے بادشاہوں کی طرف دعوت دین کے ہر گز خط نہیں لکھے کیونکہ وہ دوسری قوموں کی دعوت کے لئے مامور نہ تھے “ (چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 76-77) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مندرجہ بالا ارشاد میں ان خطوط کا لکھا جانا عین موقعہ پر اور آپ صلی میں کمی کے منصب حقیقی کے شایان شان ہونا بیان فرمایا ہے۔اس طرح بعض مستشرقین کے اس اعتراض کا بھی رد ہو جاتا ہے 170