سیرة النبی ﷺ — Page 147
کہ یہ ثابت کرے کہ جیسے ان کے بت قرآن کریم کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں ایسا ہی تلوار کے ساتھ کامیاب کرا دینے سے بھی عاجز ہیں“ جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 245-244) کتب تاریخ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ آنحضور صلی علیکم اور صحابہ کی مدینہ ہجرت کے بعد قریش کے سردار ابو جہل نے مدینہ کے ایک رئیس عبد اللہ بن ابی بن سلول کو خط لکھا جس کا متن یہ تھا اِنَّكم ! وَيْتُم صاحِبَنا و انانُقسِمُ بِاللَّهِ لتقاتلنه أَوْ تُخرِجُنَّهُ أَوْ نُسيّرنَّ الَيكُم بِاَجْمَعِنَا حتى نَقتُلَ مقاتليكُم أَوْ نَستَبِيحَ نِسائكُم (ابو داود كتاب الخراج) یعنی اے اہل مدینہ تم نے ہمارے ایک شخص کو پناہ دی ہے ہم اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اگر تم نے اس کے خلاف جنگ نہ کی یا اسکو وطن بدر نہ کیا تو ہم اپنا لشکر لے کر تم پر حملہ کریں گے اور تمہارے مردوں کو قتل کریں گے اور تمہاری عورتوں کو اپنے قبضہ میں کر لیں گے۔یہ خط قریش کے انتہائی خطرناک ارادوں کی عکاسی کرتا ہے۔پھر اسی زمانہ میں حضرت سعد بن معاذ رئیس اوس مکہ عمرہ کے لئے گئے تو انکو بھی ابو جہل نے دھمکیاں دیں ( بخاری کتاب المغازی) اور یہ صرف دھمکیاں ہی نہیں تھیں بلکہ عملاً قریش نے مدینہ کے ارد گر د متعد د پارٹیاں لشکر کشی کی غرض سے بھجوانے کا سلسلہ شروع کیا۔اور ان میں سے بعض تو مدینہ کے بہت قریب تک آئیں اور کچھ نقصان پہنچانے میں کامیاب بھی ہو گئیں۔قرآن کریم میں مسلمانوں کی اس دور کی حالت یہ بیان ہوئی ہے کہ وَاذْكُرُوا إِذْ أَنْتُمْ قَلِيلٌ مُسْتَضْعَفُونَ فِي الْأَرْضِ تَخَافُونَ أَنْ يَتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَآوَاكُمْ وَأَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهِ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (انفال:27) اور یاد کر وجب تم بہت تھوڑے تھے (اور) زمین میں کمزور شمار کئے جاتے تھے (اور) ڈرا کرتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اُچک نہ لے جائیں تو اس نے تمہیں پناہ دی اور اپنی نصرت سے تمہاری تائید کی اور تمہیں پاکیزہ چیزوں میں سے رزق دیا تا کہ تم شکر گزار بنو۔غزوہ بدر: حضور نے غزوہ بدر کے واقعات کا ذکر مختلف پہلووں سے فرمایا ہے۔آپ کے ارشادات سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے یہ جنگ محض دفاع کی خاطر لڑی تھی۔نیز یہ کہ دشمن خود جنگ کی غرض سے آیا تھا۔جیسا کہ فرمایا: 147