سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 135 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 135

قدر پتھر چلائے کہ آپ سر سے پیر تک خون آلودہ ہو گئے اور آخر کار کافروں نے یہ منصوبہ سوچا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر کے اس مذہب کا فیصلہ ہی کر دیں۔تب اس نیت سے اُنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کیا اور خدا نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تم اس شہر سے نکل جاؤ۔تب آپ اپنے ایک رفیق کے ساتھ جس کا نام ابو بکر تھا نکل آئے اور خدا کا یہ معجزہ تھا کہ باوجودیکہ صد ہالوگوں نے محاصرہ کیا تھا مگر ایک شخص نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا اور آپ شہر سے باہر آگئے اور ایک پتھر پر کھڑے ہو کر مکہ کو مخاطب کر کے کہا کہ ”اے مکہ تو میرا پیارا شہر اور پیارا وطن تھا اگر میری قوم مجھ کو تجھ سے نہ نکالتی تو میں ہر گز نہ نکلتا تب اس وقت بعض پہلے نوشتوں کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ :۔”وہ نبی اپنے وطن سے نکالا جائے گا“ مگر پھر بھی کفار نے اسی قدر پر صبر نہ کیا اور تعاقب کر کے چاہا کہ بہر حال قتل کر دیں لیکن خدا نے اپنے نبی کو اُن کے شر سے محفوظ رکھا اور آنجناب پوشیدہ طور پر مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ کی طرف چلے آئے “ سابقہ انبیاء سے مماثلت: چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 390،391) حضور نے آنحضو صلی علیم کے غار ثور میں پناہ لینے کے اس واقعہ کو آنحضرت صلی علیکم کی حضرت یونس اور حضرت عیسی سے مماثلت اور سنت اللہ قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا: ”خدا جب اپنے محبوبوں کو بچانا چاہتا ہے تو ایسے ہی دھو کہ میں مخالفین کو ڈال دیتا ہے۔ہمارے نبی لیا جب غار ثور میں پوشیدہ ہوئے تو وہاں بھی ایک قسم کے شبہ لھم سے خدا نے کام لیا یعنی مخالفین کو اس دھو کہ میں ڈال دیا کہ انہوں نے خیال کیا کہ اس غار کے منہ پر عنکبوت نے اپنا جالا بنا ہوا ہے اور ر کبوتری نے انڈے دے رکھے ہیں۔پس کیونکر ممکن ہے کہ اس میں آدمی داخل ہو سکے۔اور آنحضرت صلی ال ام اس غار میں جو قبر کی مانند تھی تین دن رہے جیسا کہ حضرت مسیح بھی اپنی شامی قبر میں جب غشی کی حالت میں داخل کئے گئے تین دن ہی رہے تھے۔اور آنحضرت لام نے فرمایا کہ مجھے کو ٹیونس پر بزرگی مت دو یہ بھی اشارہ اس مماثلت کی طرف تھا کیونکہ غار میں داخل ہونا اور مچھلی کے پیٹ میں داخل ہونا یہ دونوں واقعہ باہم ملتے ہیں۔پس نفی تفضیل اس 135