سیرة النبی ﷺ — Page 134
آشیانہ ہے اور ایک درخت ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے بھی پہلے کا ہے لہذا کسی طرح ممکن نہیں کہ کوئی غار کے اندر جاسکے اور آشیانہ سلامت رہے اور درخت کاٹا نہ جائے اور ان میں سے کوئی شخص درخت اور آشیانہ کو ہٹا کر اندر نہ جاسکا کیونکہ لوگوں نے بارہا دیکھا تھا کہ کئی دفعہ بہت سے سانپ غار کے اندر سے نکلتے اور اندر جاتے ہیں اس لئے وہ سانپوں کی غار مشہور تھی سو موت کے غم نے سب کو پکڑا اور کوئی جرات نہ کر سکا کہ اندر جائے۔یہ خدا کا فعل ہے کہ سانپ جو انسان کا دشمن ہے اپنے حبیب کی حفاظت کے لئے اس سے کام لے لیا اور جنگلی کبوتری کے آشیانہ سے لوگوں کو تسلی دی۔یہ کبوتری نوح کی کبوتری سے مشابہ تھی جس نے آسمانی سلطنت کے مقدس خلیفہ اور تمام برکتوں کے سرچشمہ کی حمایت کی۔پس یہ تمام باتیں غور کے لائق ہیں کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے اپنے پیارے رسولوں کو دشمنوں کے بد ارادوں سے بچالیا۔اس کی حکمتوں اور قدرتوں پر قربان ہونا چاہیے کہ شریر انسان اس کے راستباز بندوں کے ہلاک کرنے کے لئے کیا کچھ سوچتا ہے اور در پر وہ کیسے کیسے منصوبے باندھے جاتے ہیں اور پھر انجام کار خدا تعالیٰ کچھ ایسا کرشمہ قدرت دکھلاتا ہے کہ مکر کرنے والوں کا مکر انہی پر اٹھا کر مارتا ہے اگر ایسانہ ہو تا تو ایک راستباز بھی شریروں کے بد ارادہ سے بیچ نہ سکتا“ (کتاب البریہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 26،25) غار ثور مکہ سے جنوب کی جانب ساڑھے چار کلو میٹر کے فاصلہ پر جبل ثور میں ہے۔غار کا بڑا دہانہ تقریباً ایک میٹر چوڑا ہے۔اور چھوٹا دہانہ تقریبا نصف میٹر چوڑا ہے۔اس کا طول اٹھارہ بالشت اور عرض گیارہ بالشت ہے۔جبل ثور کی بلندی 759 میٹر ہے۔لیکن غار ثور سطح زمین سے زیادہ بلند نہیں (7) حضور نے غار ثور کے نام کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ یہ نام پہلے سے پیشگوئی کے طور پر چلا آتا تھا تا اس واقعہ کی طرف اشارہ ہو۔“ لغت میں ثور ان کے معنی یہ ہیں: فی غلیان و اضطراب و هیجان۔یعنی اضطراب اور بے چینی کی آزمائش۔(8) مزید فرمایا: کسی پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ معظمہ میں تیرہ ۱۳ برس تک سخت دل کافروں کے ہاتھ سے وہ مصیبتیں اٹھائیں اور وہ دُکھ دیکھے کہ بجز اُن برگزیدہ لوگوں کے جن کا خدا پر نہایت درجہ بھروسہ ہوتا ہے کوئی شخص اُن دکھوں کی برداشت نہیں کر سکتا اور اس مدت میں کئی عزیز صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت بے رحمی سے قتل کئے گئے اور بعض کو بار بار زدو کوب کر کے موت کے قریب کر دیا اور بعض دفعہ ظالموں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اس 134