سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 106 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 106

ٹیلوں، پہاڑوں، پہاڑیوں، میدانوں، وادیوں اور درختوں کی جڑوں میں بارش برسا۔“ حضرت انس کہتے ہیں کہ نبی صلی ال ظلم کے یہ کہتے ہی ) بارش بند ہو گئی اور ہم لوگ دھوپ میں چلنے پھرنے لگے (34) معراج و اسراء: معراج اور اسراء سیرت النبی صلی ایم کے دو اہم واقعات ہیں جو آپ صلی للی کم کی علوم شان کے مظہر ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہوا ہے۔یہ دونوں الگ الگ واقعات ہیں۔لیکن انکو ایک ہی واقعہ سمجھا گیا ہے۔اسکی وجہ احادیث میں ان سفروں کے اندرونی واقعات کا بلا تخصیص مل جل جانا ہے۔لیکن ان دونوں واقعات یعنی معراج اور اسراء کے الگ الگ عنوان باندھے گئے ہیں۔معراج سے مراد وہ روحانی سفر ہے جو آپ صلی علیم نے ملکہ سے آسمانوں تک کا کیا اس کا ذکر سورۃ النجم 6 تا19 میں ہے۔اور اسراء مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا روحانی سفر ہے جو سورۃ بنی اسرائیل میں مذکور ہے۔یہ دونوں واقعات آپ کی یہ کم کی علومشان کے مظہر ہیں۔لیکن اُمت نے ان واقعات کی حقیقت کو سمجھنے میں بھی غلطی کھائی ہے جسکی اصلاح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بطور حکم و عدل فرمائی ہے۔معراج واسر اء روحانی سفر ہیں: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ایسا ہی ایک اور غلطی جو مسلمانوں کے درمیان پڑ گئی ہوئی ہے وہ معراج کے متعلق ہے۔ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی ا ہم کو معراج ہوا تھا۔مگر اس میں جو بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ وہ صرف ایک معمولی خواب تھا۔سو یہ عقیدہ غلط ہے۔اور جن لوگوں کا عقیدہ ہے کہ معراج میں آنحضرت علی ا ہم اسی جسد عصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے۔سو یہ عقیدہ بھی غلط ہے۔بلکہ اصل بات اور صحیح عقیدہ یہ ہے کہ معراج کشفی رنگ میں ایک نورانی وجود کے ساتھ ہوا تھا۔وہ ایک وجو د تھا مگر نورانی، اور ایک بیداری تھی مگر کشفی اور نورانی جس کو اس دنیا کے لوگ نہیں سمجھ سکتے مگر وہی جن پر وہ کیفیت طاری ہوئی ہو ؛ ورنہ ظاہری جسم اور ظاہری بیداری کے ساتھ آسمان پر جانے کے واسطے تو خود یہودیوں نے معجزہ طلب کیا تھا جس کے جواب میں قرآن شریف میں کہا گیا تھا قل سبحان ربي هل كنت الا 106