سیرة النبی ﷺ — Page 94
خدا کے ماتحت یہ سب کچھ کر رہا ہوں اور پھر دوسری طرف سے سب تکالیف کی برداشت کرنا یہ ایک فوق الطاقت معجزہ ہے“ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن جلد 4 صفحہ 46) ابن ہشام نے ایک روایت بیان کی ہے جو مذکورہ بالا ارشاد کی تفصیل جاننے کے لئے مفید ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ قریش کے بڑے بڑے سردار جن میں عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابو سفیان بن حرب، نضر بن حارث، ابو البختری اسود بن مطلب، زمعہ بن اسود، عبد اللہ بن امیہ ایک شام غروب آفتاب کے وقت کعبہ کے پاس جمع ہوئے اور آپ صلی اللہ تم کو بھی بلوالیا۔قریش نے آپ صلی علیم کو کہا کہ اے محمد آپ نے ہمارے بتوں کی مذمت کی ہے۔ہمارے آباء کو برا بھلا کہا۔اور قوم میں افتراق ڈالا۔ہم چاہتے ہیں کہ آپ ایسا کرنے سے رُک جائیں۔اسکے بدلہ اگر آپ کو مال چاہئے تو ہم سب مل کر آپ کو عرب کا سب سے زیادہ مالدار بنادیتے ہیں۔اگر سر داری چاہئے تو ہم آپ کو سردار بنا د لیتے ہیں۔اگر خوبصورت عورت سے شادی کرنا چاہتے ہیں تو عرب کی جو چاہیں عورت آپ کے سپرد کر دیتے ہیں، اور یہ کہا کہ اگر آپ کو کوئی جھاڑ پونچھ یعنی کسی ذہنی بیماری کا علاج در کار ہے تو وہ بھی کروانے کو تیار ہیں۔اسکے جواب میں آپ صلی میں ہم نے فرمایا مجھے ان چیزوں میں سے کچھ بھی نہیں چاہئے۔نہ میں تم میں عزت چاہتا ہوں اور نہ میں تم پر حکومت کا خواہاں ہوں میں تو خدا تعالیٰ کی طرف سے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اگر تم میری بات مانو گے تو تم دین و دنیا کے مالک بنائے جاؤ گے۔اسکے بعد قریش نے نبوت کی دلیل کے طور پر بیہودہ سوالات کرنے شروع کئے جن کے جواب میں آپ نے سورۃ کہف کی آیات سنائیں۔(18) آنحضور صلی اللی کم پر قریش کے مظالم : سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ایک اور جگہ فرمایا: ”آپ کی قوت قدسیہ کی تاثیر سے غریب اور عاجز لوگ آپ کے حلقہ اطاعت میں آنے شروع ہو گئے۔اور جو بڑے بڑے آدمی تھے انہوں نے دشمنی پر کمر باندھ لی۔یہاں تک کے آخر کار آپ کو قتل کرنا چاہا۔اور کئی مر داور کئی عور تیں بڑے عذاب کے ساتھ قتل کر دیئے گئے“ (پیغام صلح، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 466) ایک جگہ حضور نے برہمو پر کاش دیوجی کی کتاب سوانح عمری حضرت محمد صاحب کے حوالہ سے تحریر فرمایا ہے کہ: 94