سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 93 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 93

کو بُرا کہتا ہے اس کو روکنا چاہئے چونکہ ایک بڑی جماعت یہ شکایت لے کر گئی تھی اس لئے ابو طالب نے آنحضرت ملا م کو بلایا تاکہ ان کے سامنے آپ سے دریافت کریں۔جہاں یہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے یہ ایک چھوٹا دالان تھا اور ابو طالب کے پاس صرف ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ باقی تھی۔جب آنحضرت ملا کر تشریف لائے تو آپ نے ارادہ فرمایا کہ چاکے پاس بیٹھ جائیں مگر ابو جہل نے یہ دیکھ کر کہ آپ یہاں آکر بیٹھیں گے شرارت کی اور اپنی جگہ سے کود کر وہاں جا بیٹھا تا کہ جگہ نہ رہے اور سب نے مل کر ایسی شرارت کی کہ آپ کے بیٹھنے کو کوئی جگہ نہ رکھی۔آخر آپ دروازہ ہی میں بیٹھ گئے۔اس دردناک واقعہ سے انکی کیسی شرارت اور کم ظرفی ثابت ہوتی ہے غرض جب آپ بیٹھ گئے تو ابو طالب نے کہا کہ اے میرے بھتیجے تو جانتا ہے کہ میں نے تجھ کو کس واسطے بلایا ہے۔یہ مکہ کے رئیس کہتے ہیں کہ تو انکے معبودوں کو گالیاں دیتا ہے۔آنحضرت میلی لی ایم نے فرمایا۔اے چا میں تو ان کو ایک بات کہتا ہوں کہ اگر تم یہ ایک بات مان لو تو عرب و عجم سب تمہارا ہو جائے گا۔انہوں نے کہا وہ کونسی بات ہے ؟ تب آپ نے فرمایا لا الہ الا اللہ جب انہوں نے یہ کلمہ سنا تو سب کے کپڑوں میں آگ لگ گئی اور بھڑک اُٹھے اور مکان سے نکل گئے اور پھر آپ کی راہ میں بڑی روکیں اور مشکلات ڈالی گئیں “ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 3 صفحہ 535،536) مندرجہ بالا واقعہ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے طبری کے حوالہ سے بیان کیا ہے۔طبری میں یہ روایت تقریباً انہی الفاظ میں ابن عباس کی روایت سے بیان کی گئی ہے۔دنیوی لالچ دینے کی کوشش: تاریخ اسلام کے اس دور میں چند ایسے واقعات بھی ملتے ہیں جن میں کفار سرداران قریش نے حضرت نبی اکرم صل للہ کل کو دنیوی لالچ دے کر تبلیغ سے روکنے کی کوشش کی۔اور آپ صلی علی یکم نے ہر پیشکش کو ٹھکرا دیا۔آپ نے بھی ان میں سے چند واقعات کا ذکر فرمایا ہے اور آپ صلی یک کم کی بے مثال استقامت پر روشنی ڈالی ہے۔رسول اکرم علی علیم کی استقامت انکے لاکھوں معجزوں سے بڑھ کر ایک معجزہ ہے۔گل قوم کا ایک طرف ہونا۔دولت، سلطنت، دنیوی وجاہت، حسینہ جمیلہ بیویاں وغیرہ سب کچھ کے لالچ قوم کا اس شرط پر دینا کہ وہ اعلائے کلمتہ اللہ لَا إِلهَ إِلَّا اللہ سے رُک جاویں۔لیکن ان سب کے مقابل جناب رسالت مآب کا قبول کرنا اور فرمانا کہ میں اگر اپنے نفس سے کرتا تو یہ سب باتیں قبول کرتا۔میں تو حکم 93