سیرة النبی ﷺ — Page 76
لِلْعَالَمِینَ یعنی میں نے تمام عالموں کے لئے تجھے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔اور پھر فرماتا ہے لِتَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيراً یعنی ہم نے اس لئے بھیجا ہے کہ تمام دنیا کو ڈراوے۔لیکن ہم بڑے زور سے کہتے ہیں کہ قرآن شریف سے پہلے دنیا کی کسی الہامی کتاب نے یہ دعوی نہیں کیا بلکہ ہر ایک نے اپنی رسالت کو اپنی قوم تک ہی محدود رکھا۔۔۔اور زمانہ کے حالات نے بھی گواہی دی کہ قرآن شریف کا یہ دعوی تبلیغ عام کا عین موقعہ پر ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللی علم کے ظہور کے وقت تبلیغ عام کا دروازہ کھل گیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ ہم نے خود اپنے ہاتھ سے بعد نزول اس آیت کے کہ قُل يَأَيُّها الناسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ اليكُم جَمِيعًا دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کیطرف خط لکھے تھے کسی اور نبی نے غیر قوموں کے بادشاہوں کی طرف دعوت دین کے ہر گز خط نہیں لکھے کیونکہ وہ دوسری قوموں کی دعوت کے لئے مامور نہ تھے “ (چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 76-77) آغاز تبلیغ: حضور فرماتے ہیں: ایک دن اسی غار میں آپ پوشیدہ طور پر عبادت کر رہے تھے تب خدا تعالیٰ آپ پر ظاہر ہوا۔اور آپ کو حکم ہوا کہ دنیا نے خدا کی راہ کو چھوڑ دیا ہے اور زمین گنہ سے آلودہ ہو گئی ہے۔اس لئے میں تجھے اپنا رسول کر کے بھیجتا ہوں۔اب تو اور لوگوں کو متنبہ کر کہ وہ عذاب سے پہلے خدا کی طرف رجوع کریں“ (پیغام صلح، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 466-465) آنحضور صلی الم نے ماموریت کے بعد خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق تبلیغ کا آغاز فرمایا۔لیکن یہ تبلیغ ابھی صرف اپنے قریبی رشتہ داروں اور عزیزوں تک ہی محدود تھی اور خفیہ تھی۔اس طرح ابتدا میں قریبی رشتہ داروں اور گھر میں رہنے والے افراد نے ہی اسلام قبول کیا۔جن میں سر فہرست حضرت خدیجہ حضرت علی، حضرت فاطمہ حضرت زید شامل ہیں۔اور حضرت ابو بکر صدیق اور چند اور صحابہ شامل ہیں اور تبلیغ کا سلسلہ تقریباً تین سال تک محدود اور قدرے خفیہ رہا۔اس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ اہل بیت اور ابتدائی صحابہ کی تربیت اس رنگ میں کرنے کا موقعہ مل گیا کہ آئندہ لوگوں کے لئے نمونہ بن سکیں۔76