سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 70 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 70

تشریف لائے اور (وہاں موجود لوگوں سے) کہا کہ مجھے کمبل اڑھا دو، مجھے کمبل اڑھا دو۔چنانچہ انھوں نے آپ میلی لی ایم کو مکمل اڑھا یا یہاں تک کہ (جب ) آپ صلی علیہم کے دل سے خوف جاتا رہا تو آپ صلی علیہ ہم نے خدیجہ سے سب حال (جو غار میں گزرا تھا) بیان کر کے کہا کہ بلاشبہ مجھے اپنی جان کا خوف ہے۔خدیجہ بولیں کہ ہر گز نہیں۔اللہ کی قسم ! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔یقیناً آپ صلہ رحمی کرتے ہیں ناتواں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، جو چیز لوگوں کے پاس نہیں وہ انہیں دیتے ہیں مہمان کی خاطر تواضع کرتے ہیں اور (اللہ کی راہ میں) مدد کرتے ہیں۔پھر خدیجہ آپ صلی ا کم کولے کر چلیں اور ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبد العزی جو کہ خدیجہ کے چچا کے بیٹے تھے، کے پاس آپ صلی للی کم کولائیں اور ورقہ وہ شخص تھا جو زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہو گیا تھا اور عبرانی کتاب لکھا کرتا تھا۔یعنی جس قدر اللہ کو منظور ہوتا تھا انجیل کو عبرانی میں لکھا کرتا تھا اور بڑا بوڑھا آدمی تھا کہ بینائی جاچکی تھی۔تو اس سے ام المومنین خدیجہ نے کہا کہ اے میرے چا کے بیٹے ! اپنے بھتیجے (صلی علی کر) سے (ان کا حال ) سنو !اور قہ بولے، اے میرے بھتیجے !تم کیا دیکھتے ہو ؟ رسول اللہ صل اللی کم نے جو کچھ دیکھا تھا ان سے بیان کر دیا تو ورقہ نے آپ صلی علیہ نظم سے کہا کہ یہ وہ فرشتہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ پر نازل کیا تھا۔اے کاش! میں اس وقت (جب آپ صلی علیہ کم بی ہوں گے ) جوان ہو تا۔اے کاش میں (اس وقت تک زندہ رہتا جب کہ آپ صلی کم کو آپ کی قوم (مکہ سے) نکالے گی۔رسول اللہ صلی ہی ہم نے یہ سن کر بہت تعجب سے فرمایا: کیا یہ لوگ مجھے نکالیں گے ؟ ورقہ نے کہا ہاں جس شخص نے آپ کی ایک ہی جیسی بات بیان کی اس سے (ہمیشہ) دشمنی کی گئی اور اگر مجھے آپ ملا نیم کی نبوت ) کا دور مل گیا تو میں آپ صلی للی کم کی بہت ہی بھر پور طریقے سے مدد کروں گا۔مگر چند ہی روز گزرے تھے کہ ورقہ کی وفات ہو گئی اور وحی ( کی آمد عارضی طور پر پر چند روز کے لیے ) رک گئی۔(1) اس طرح یہ تفصیلات سیرت کی اکثر کتب میں مذکور ہیں۔غار حرامکہ کے قریب شمال میں جبل حرا کی چوٹی پر ایک تنگ و تاریک غار ہے۔(2) مستشرقین کا اعتراض: بعض مستشرقین جن میں سے ایک منٹگمری واٹ بھی ہے نے یہ بیان کیا ہے کہ حضرت محمدعلی علی یلم غار حرا میں عبادت کے لئے نہیں جاتے تھے بلکہ مکہ کے بعض دوسرے لوگوں کی طرح گرمیوں کے موسم میں گرمی سے بچنے کے لئے غارِ حرا میں جا کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔جیسا کہ لکھتا ہے۔There is no improbability in Muhammad's going to Hira, a hill a little way from Mecca, with or without his family۔It might be a 70