سیرة النبی ﷺ — Page 63
تذکرہ فرما دیا ہے۔آپ کی شادی پچیس برس کی عمر تک نہ ہونے کا باعث کوئی ذاتی عیب نہ تھا بلکہ صرف آپ کا بظاہر بے مال و متاع ہو نا تھا۔جو آپ صلی للی کام کے اختیار کی بات نہ تھی۔اہل مکہ کے نزدیک ظاہری حالات ہی سب کچھ تھے۔اخلاقی خوبیوں سے کچھ سروکار نہ تھا سو ان کے نزدیک آپ ایک یتیم، تنہا، جسکا کا کوئی بھائی یا بہن بھی نہ تھا اور ایسی حالت میں دنیا پرست رشتہ داروں نے آپ سے ایسی بے اعتنائی اور سردمہری کا مظاہرہ کیا۔کہ کسی نے اپنی لڑکی آپ سے بیا ہنی مناسب نہ سمجھی۔حالانکہ اس وقت چاؤں اور دیگر رشتہ داروں کی لڑکیاں موجو د تھیں۔مدنی دور میں جب حالات بدلتے ہیں تو یہی رشتہ دار اپنی بیٹیوں کو آپ صلی اللہ نام کے عقد میں دینے کے متمنی نظر آتے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کو مزید سمجھنے کے لئے اگر اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ اس دور میں آپ صلی الم کے قریبی رشتہ داروں کے حالات کیا تھے تو معلوم ہوتا ہے چچاوں اور پھوپھیوں اور دیگر اقربا کے حالات بہتر تھے اور انکے ہاں لڑکیاں بھی موجود تھیں اور وہ اس وقت آپ صلی ال نیم کی معاونت کر سکتے 1۔حضرت حارث بن عبد المطلب کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ وہ بہادر سخی اور متمول شخص تھے۔2۔ابو لہب بن عبد المطلب بھی مکہ کا ایک معزز شخص تھا اس کی ایک بیٹی درہ تھیں جن کو صحابیہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔3۔حضرت زبیر بن عبد المطلب کا شمار قریش کے نامور لوگوں میں ہوتا تھا مہمان نواز، معاملہ فہم اور سخی انسان تھے۔انکی ایک بیٹی ام حکیم تھیں۔4۔حضرت ضرار بن عبد المطلب بھی ایک نامور انسان تھے۔لیکن انکی کوئی اولاد نہ تھی۔5۔حضرت مقوم کی بیٹی ہندہ تھی۔6۔ابو طالب بن عبد المطلب نے تمام عمر آپ صلی للی کم کا ثابت قدمی سے ساتھ دیا۔انکی ایک بیٹی اُم ہانی تھیں۔7۔حضرت امیر حمزہ بھی مکہ کے ایک معزز اور صائب الرائے آدمی تھے۔اور متمول انسان تھے۔۔امامہ اور عمارہ انکی دو بیٹیاں تھیں۔8۔حضرت عباس بھی آنحضرت صلی علیہ یکم کے چاتھے۔اور کثیر العیال ہونے کی وجہ سے غربت کا شکار تھے۔لیکن آپ صلی الیکم کے ساتھ بہت وفا کا سلوک تھا۔63