سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 64 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 64

غرضیکہ آنحضور صلی کم کا خاندان مکہ کا ایک معزز اور افرادی قوت سے بھر پور خاندان تھا۔اسکے باوجود کسی قریبی نے قرابت کا حق جیسا کہ تھا ادا نہ کیا اور سرد مہری سے کام لیا اسکی وجہ صرف اور صرف وہی تھی جو آپ نے بیان فرمائی ہے۔ان حالات کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ میلی لی نام کو ان رشتوں سے بہتر اور اعلی رشتہ عطا فرمایا یعنی حضرت خدیجہ سے آپ صلی علیکم کی شادی ہوئی۔اور جیسا کہ حضور نے فرمایا ہے کہ محض خدائے تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایک مکہ کی رئیسہ نے آنحضرت مصلی تم کو اپنے لئے پسند کر کے آپ سے شادی کرلی“ (روحانی خزائن جلد 3 ، ازالہ اوہام صفحہ 113 حاشیہ) یہ ارشاد آپ صلی الیم کے ساتھ خدا تعالیٰ کے پیار کے تعلق اور اسکے خاص فضل و کرم کی طرف خوب روشنی ڈالتا ہے۔نیز اس امکانی اعتراض کی بھی تردید کرتا ہے کہ آپ نے نعوذ باللہ کسی خفیہ تدبیر یا کوشش سے حضرت خدیجہ کو شادی کے لئے مائل کیا۔دیگر کتب سیرت سے بھی ظاہر ہے کہ آنحضور صلی علیم کے ساتھ حضرت خدیجہ کی شادی محض اتفاقی طور پر خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوئی اور شرفاء عرب کے رسم و رواج کے ماتحت ہوئی۔مثلا ابن کثیر بیان کرتے ہیں حضرت خدیجہ مکہ کی نہایت شریف خاتون تھیں اور بہت متمول بھی تھیں اس لئے مکہ کے بہت سے شریف خاندانوں کے لوگ ان سے شادی کے خواہشمند تھے لیکن انہوں نے رسول اللہ صلی لی کمر کو ان کی صفات حسنہ کی وجہ سے چنا جو میسرہ نے حضرت خدیجہ کو بتائیں تھیں۔(20) میسرہ نے تجارتی سفر کے دوران پیش آمدہ واقعات جن میں آپ کی امانت دیانت اور ذہانت کے واقعات کے علاوہ معجزانہ واقعات کا بھی ذکر کیا جیسے دو فرشتوں کا سایہ فگن ہونا اور تجارتی مال میں معجزانہ برکت اور فائدہ ہونا (21) چنانچہ اسی طرح ابن سعد کی ایک روایت کے مطابق حضرت خدیجہ نے خود رسول اللہ صلی علی یم کو شادی کا پیغام بھجوایا تھا اور یہ نکاح با قاعدہ ملکہ کے رواج کے مطابق بزرگوں کی رضامندی سے طے پایا تھا۔(2) پس اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم کے اظہار کے طور پر اس شادی کے سامان بہم پہنچائے۔اُم المومنین حضرت خدیجہ نے اپنی خدا داد فراست سے مخدوم العالمین شاہ دو جہان کو پہچان لیا اسے حاصل کیا اور اسکی خدمتگزار ہو کر عظیم الشان نعمتوں اور برکتوں سے فیضیاب ہوئیں۔64