سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 34 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 34

نسب مبنی بر نکاح آنحضور صلی ا ہم کو نسب کے لحاظ سے یہ بھی شرف حاصل ہے کہ آپ صل علی مہم کا خاص سلسلہ آباء نکاح پر مبنی ہے۔جیسا کہ آپ صلی علیم نے فرمایا خَرجت من نكاح۔ولم اخرجُ مِن سفاح مِن لَدُن آدمَ لم يُصِبنِي مِن سفاح أهل الجاهلية شئى لم اخرج الا من طهره “ یعنی میری پیدائش نکاح سے ہوئی۔میں گناہ سے نہیں پید اہو ا۔آدم سے لیکر یہاں تک کہ زمانہ جاہلیت میں بھی میرے سلسلہ آباء میں گناہ کا شائبہ تک نہیں۔میں اس سلسلہ آباء کے پاک تخم سے ہی ہوا ہوں۔(29) مطہر سلسلہ امہات: آنحضور صلی الم کا سلسلہ نسب جسطرح والد کی طرف سے مظہر ہے اسی طرح والدہ کی طرف سے بھی پشت در پشت مطہر ہے۔مثلا ھشام بن محمد اپنے والد کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے آنحضور صلی الم کے نسب نامہ میں 500 ماؤں کے نام لکھے ان میں سے ایک کے متعلق بھی سفاح یعنی گناہ کا شائبہ تک نہ تھا۔حتی کہ خاص زمانہ جاہلیت میں بھی۔(30) تاریخ وسیرت کی متعدد کتب میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی علیہ کی اپنی جذات یعنی دادیوں پر فخر کیا کرتے تھے کیونکہ آپ کی تمام نسبی دادیاں نہایت پاکباز تھیں اور انکی اولاد معروف نکاح کے نتیجہ میں ہوئی۔آپ فرمایا کرتے تھے میں عواتک اور فواطم کی اولاد ہوں۔عواتک عاتکہ کی جمع ہے جسکے معنی پاکدامن کے ہیں اور فواطم فاطمہ کی جمع ہے جسکے معنی ایسی اونٹنی کے ہیں جس کا دودھ چھڑایا گیا ہو۔اور عرب میں فاطمہ نیک خواتین کا لقب ہوا کر تا تھا۔(31) شرک سے پاک سلسلہ آباء: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے: عرب کی تاریخ دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ بجز آنحضرت ملی ایام کے سلسلہ اجداد کے جن کو اللہ جل شانہ نے اپنے خاص فضل و کرم سے شرک اور دوسری بلاوں سے بچائے رکھا باقی تمام لوگ عیسائیوں 34