سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 22 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 22

بد عاقبت نہ کرے۔الہی تو اس امت کو فتنوں سے بچا اور یہودیوں کی نظریں ان سے دور رکھ۔آمین ثم آمین ضرورت الامام۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 475 476) قرآن کریم اور احادیث نیز کتب تاریخ و سیرت سے یہ بات بالبداہت ثابت شدہ ہے کہ اسلام کے ظہور کے زمانہ تک اہل کتاب میں بعض نیک راہب موجود تھے ان میں سے کچھ صاحب الہام بھی تھے اور کچھ نے اسلام بھی قبول کیا۔مثلاً قرآن کریم میں سورۃ البقرہ آیت 147، آل عمران آیت 76، المائدہ آیت 84,83۔میں اس قسم کے نیک راہبوں کا ذکر موجود ہے۔اسی طرح آنحضور صلی الیکم کے بچپن میں شام کی طرف ایک سفر میں بحیر انامی عیسائی راہب سے ملاقات اور اس کے کشوف کا بھی ذکر ملتا ہے (17) ورقہ بن نوفل بھی اسی قسم کے راہبوں میں شمار ہو تا ہے۔جس کا ذکر تاریخ اسلام کی متعدد کتب میں موجود ہے۔اس مضمون سے متعلق آپ کا ایک پر معارف ارشاد ذیل میں درج ہے جس میں آپ نے دنیا کی اس حالت کو آنحضور صلی علی رام کی صداقت کی ایک بین دلیل قرار دیا ہے۔فرمایا: پس آنحضرت کا ایسی عام گمراہی کے وقت میں مبعوث ہونا کہ جب خود حالت موجودہ زمانہ کی ایک بزرگ معالج اور مصلح کو چاہتی تھی اور ہدایت ربانی کی کمال ضرورت تھی۔اور پھر ظہور فرما کر ایک عالم کو توحید اور اعمال صالحہ سے منور کرنا اور شرک اور مخلوق پرستی کا جو اتم الشرور ہے قلع قمع فرمانا اس بات پر صاف دلیل ہے کہ آنحضرت خدا کے سچے رسول اور سب رسولوں سے افضل تھے۔سچا ہونا ان کا تو اس سے ثابت ہے کہ اس عام ضلالت کے زمانہ میں قانون قدرت ایک سچے ہادی کا متقاضی تھا اور سنت الہیہ ایک رہبر صادق کی مقتضی تھی۔کیونکہ قانون قدیم حضرت رب العالمین کا یہی ہے کہ جب دنیا میں کسی نوع کی شدت اور صعوبت اپنے انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو رحمت الہی اس کے دور کرنے کی طرف متوجہ ہوتی ہے جیسے جب امساک باران سے غایت درجہ کا قحط پڑ کر خلقت کا کام تمام ہونے لگتا ہے تو آخر خداوند کریم بارش کر دیتا ہے اور جب وہا سے لاکھوں آدمی مرنے لگتے ہیں تو کوئی صورت اصلاح ہوا کی نکل آتی ہے یا کوئی دوا ہی پیدا ہو جاتی ہے اور جب کسی ظالم کے پنجہ میں کوئی قوم گرفتار ہوتی ہے تو آخر کوئی عادل اور فریا درس پیدا ہو جاتا ہے۔پس ایسا ہی جب لوگ خد ا کا راستہ بھول جاتے ہیں اور توحید اور حق پرستی کو چھوڑ دیتے ہیں۔تو خداوند تعالیٰ اپنی طرف سے کسی بندہ کو بصیرت کامل عطا فرما کر اور 22