سیرة النبی ﷺ — Page 21
جس شخص اخطل عیسائی کا ذکر کیا ہے اس کے متعلق بڑی تفصیل سے مختلف کتب میں بیان کیا گیا ہے۔دلچسپی رکھنے والے اس کا مکمل تعارف اردو دائرہ معارف اسلامی۔زیر لفظ اخطل۔جلد 1 صفحہ 181 تا 183 دیکھ سکتے ہیں۔نیک راهب: عرب کے اہل کتاب میں بعض نیک راہب بھی تھے جن میں سے کچھ الہام اور کشوف میں سے بھی حصہ پاتے تھے۔آپ نے تاریخ میں مذکور ان نیک راہبوں کا بھی ذکر اپنی تحریرات میں فرمایا ہے جیسا کہ ایک جگہ فرمایا۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت ہزاروں راہب ملہم اور اہل کشف تھے اور نبی آخر الزمان کے قرب ظہور کی بشارت سنایا کرتے تھے لیکن جب انہوں نے امام الزمان کو جو خاتم الانبیاء تھے قبول نہ کیا تو خدا کے غضب کے صاعقہ نے ان کو ہلاک کر دیا اور ان کے تعلقات خدا تعالیٰ سے بکلی ٹوٹ گئے اور جو کچھ ان کے بارے میں قرآن شریف میں لکھا گیا اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔یہ وہی ہیں جن کے حق میں قرآن شریف میں فرمایا گیا وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ سے نصرت دین کیلئے مددمانگا کرتے تھے اور ان کو الہام اور کشف ہو تا تھا اگر چہ وہ یہودی جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی نافرمانی کی تھی خدا تعالیٰ کی نظر سے گر گئے تھے لیکن جب عیسائی مذہب بوجہ مخلوق پرستی کے مر گیا اور اس میں حقیقت اور نورانیت نہ رہی تو اس وقت کے یہود اس گناہ سے بری ہو گئے کہ وہ عیسائی کیوں نہیں ہوتے تب ان میں دوبارہ نورانیت پیدا ہوئی اور اکثر ان میں سے صاحب الہام اور صاحب کشف پیدا ہونے لگے اور ان کے راہبوں میں اچھے اچھے حالات کے لوگ تھے اور وہ ہمیشہ اس بات کا الہام پاتے تھے کہ نبی آخر زمان اور امام دوران جلد پیدا ہو گا اور اسی وجہ سے بعض ربانی علماء خدا تعالیٰ سے الہام پا کر ملک عرب میں آرہے تھے اور ان کے بچہ بچہ کو خبر تھی کہ عنقریب آسمان سے ایک نیا سلسلہ قائم کیا جائے گا۔یہی معنے اس آیت کے ہیں کہ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ یعنی اس نبی کو وہ ایسی صفائی سے پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنے بچوں کو۔مگر جب کہ وہ نبی موعود اس پر خدا کا سلام ظاہر ہو گیا۔تب خود بینی اور تعصب نے اکثر راہبوں کو ہلاک کر دیا اور ان کے دل سیہ ہو گئے۔مگر بعض سعادتمند مسلمان ہو گئے اور ان کا اسلام اچھا ہوا پس یہ ڈرنے کا مقام ہے اور سخت ڈرنے کا مقام ہے خدا تعالیٰ کسی مومن کی بلعم کی طرح 21