سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 18 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 18

کینن نے بھی اپنی کتاب تاریخ مسیحی کلیسیا ۳۳ ء تا ۲۰۰ء کے صفحہ 168 باب 14 میں لکھا ہے کہ عیسائیوں کے عروج کا زمانہ تیسری صدی عیسوی سے شروع ہوتا ہے۔جغرافیائی لحاظ سے عربوں کے ہمسایہ ہونے کے ناطے عیسائیوں اور عربوں کے تجارتی تعلقات قائم تھے۔عرب سے شام کی تجارت ایک مشہور واقعہ ہے۔ان دیرینہ تجارتی تعلقات کا نتیجہ تھا کہ شام وغیرہ سے عیسائیوں کا کلچر بھی عرب میں سرایت کرنے لگا۔نیز بہت سے عیسائی عرب میں آکر آباد بھی ہو گئے تھے۔مثلاً غسان اور نجران کے علاقے تو خاص عیسائیوں کے مرکز تھے۔مورخین بیان کرتے ہیں کہ اسلام سے چار صدیاں پہلے عرب میں عیسائی عنسان کے راستے اثر ڈالنا شروع کر چکے تھے۔جیسا کہ مشہور مورخ Philip K Hitti لکھتا ہے: Such an influence as the Nestorians of al-Hirah had on the Arabs of the Persian border was exerted by the Monophysites of Ghassanland upon the people of al-Hijaz for four centuries prior to Islam these Syrianized Arabs had been bringing the Arab world into touch not only with Syria but also with Byzantium, such personal names as Dawud (David), Sulayman (Solomon), Isa (Jesus) were not uncommon amaong the pre Islamic Arabians۔(14) اسی طرح ایک عیسائی پادری سلطان محمد پال لکھتا ہے "حضور مسیح کے آسمان پر صعود فرمانے کے تھوڑی مدت بعد عربستان کے مغربی گوشہ شام کی طرف سے مسیحی مذہب عرب میں داخل ہوا یونانی اور سریانی مورخین اور ان کے بعد مسلمان مورخین کی شہادت سے ثابت ہے کہ مسیحی مذہب اول اول حوران کے پایہ تخت یعنی بصری میں داخل ہوا (15) عیسائی مورخین کی مذکورہ بالا تحریرات سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ جس زمانہ میں آنحضور صلی الیکم مبعوث ہوئے اس سے عرصہ قبل ہی عرب میں عیسائیت نے اثرات مرتب کرنے شروع کر دئے ہوئے تھے۔اب یہ دیکھتے ہیں کہ اسوقت کے عیسائیوں کی حالت کیا تھی اگر تو وہ نیک تھے تو انکا اثر بھی نیک ہی ہو گا اور اگر وہ بد کر داری میں بڑھ چکے تھے تو انہوں نے عرب میں بھی وہ ہی اثرات مرتب کرنے تھے۔اور تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ عیسائی اپنے عروج کے تھوڑا عرصہ بعد ہی کئی قسم کی برائیوں میں مبتلا ہو گئے تھے۔اس بات کا اقرار کئی عیسائیوں نے کیا ہے۔سیّد نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بھی انہی عیسائیوں کے چند حوالے نمونہ کے 18