سیرة النبی ﷺ — Page 11
بد گمانیاں اور بے ایمانیاں اور آلودگیاں ان کے اعتقادوں میں بھر گئی تھیں اور توریت کی تعلیم کو انہوں نے نہایت بد شکل چیز کی طرح بنا کر شرک اور بدی کی بدبو کو پھیلانا شروع کر رکھا تھا۔پس وہ لوگ خدائے تعالیٰ کو جسمانی اور جسم قرار دینے میں اور اس کی ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت و غیرہ صفات کے معطل جاننے میں اور ان صفتوں میں دوسری چیزوں کو شریک گرداننے میں اکثر مشرکین کے پیشوا اور سابقین اولین میں سے ہیں“ (براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 463 تا 466 حاشیہ نمبر 11) یہود کی اخلاقی ابتری کا ذکر قرآن اور بائبل میں صراحتاً موجود ہے مثلاً سورۃ البقرہ میں ہے کہ: وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا الله وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مُعْرِضُونَ (البقرہ: (84) اور جب ہم نے بنی اسرائیل کا میثاق (ان سے) لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرو گے اور والدین سے احسان کا سلوک کروگے اور قریبی رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے بھی۔اور لوگوں سے نیک بات کہا کرو اور نماز کو قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو۔اس کے باوجود تم میں سے چند کے سوا تم سب (اس عہد سے ) پھر گئے۔اور تم اعراض کرنے والے تھے۔وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى نَحْنُ أَبْنَاءُ اللهِ وَأَحِبَّاؤُهُ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوبِكُمْ بَلْ أَنْتُمْ بَشَرٌ مِمَّنْ خَلَقَ يَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ (المائدة: 19) اور یہود اور نصاریٰ نے کہا کہ ہم اللہ کی اولاد ہیں اور اس کے محبوب ہیں۔تو کہہ دے پھر وہ تمہیں تمہارے گناہوں کی وجہ سے عذاب کیوں دیتا ہے؟ نہیں، بلکہ تم ان میں سے جن کو اُس نے پیدا کیا محض بشر ہو وہ جسے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے اور اس کی بھی جو اُن دونوں کے درمیان ہے اور آخر اسی کی طرف لوٹ کر جاتا ہے۔لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ (المائدہ: (79) جن لوگوں نے بنی اسرائیل میں سے کفر کیا وہ داؤد کی زبان سے لعنت ڈالے گئے اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے بھی۔یہ اُن کے نافرمان ہو جانے کے سبب سے اور اس سبب سے ہوا کہ وہ حد سے تجاوز کیا کرتے تھے۔۔ہو۔یہود کی حالت پر حضرت عیسٰی نے بھی بارہا افسوس کا اظہار کیا ہے اناجیل اس قسم کے بیانات سے بھری پڑی ہے جن میں حضرت عیسی نے اس وقت کے یہودی فقیہوں اور عالموں کو انکی بد کرداری کی وجہ سے برا بھلا کہا۔11