سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 7 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 7

يغوث مد پینه مذحج يعوق س همدان (سیرت النبی صلی العلم لابن ہشام، ناشر مصطفی محمد ، مکتبہ التجار یہ مصر، جلد 1 صفحہ 55، اصنام عرب) خانہ کعبہ میں 365 بت نصب تھے اور ان بتوں کا سر دار ھبل تھا (3) بیان کیا جاتا ہے عرب میں بت پرستی کی ابتدا ایک شخص عمرو بن لحی نے کی۔وہ ایک تجارتی سفر سے واپسی پر شام سے ایک بُبت لایا اور یہ ثبت اس نے خانہ کعبہ میں رکھ دیا۔رفتہ رفتہ اور لوگ بھی بت لا کر کعبہ میں رکھتے گئے اور اس طرح بالآخر تمام عرب میں بت پرستی پھیل گئی۔(4) یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ بت پرستی کی ابتدا اسطرح ہوئی کہ جو لوگ حج کی غرض سے آتے تھے وہ واپسی پر کعبہ کے پتھر عقیدت کے طور پر ساتھ لے جاتے تھے یہ عقیدت بگڑتے بگڑتے بت پرستی پر منتج ہوئی۔(5) اسی طرح مشہور کتاب تمدن عرب میں لکھا ہے کہ عربستان میں ایک عبادتگاہ تھی جس کا نام کعبہ تھا اور جسکی از روئے روایات حضرت ابراہیم نے کی تھی یہ کعبہ کل عرب کی نظروں میں ایک متبرک مقام تھا اور بہت زمانے سے یہاں حج ہوا کرتا تھا۔لیکن حقیقت میں کعبہ عربستان کے دیوتاوں کا مندر تھا اور محمد کے زمانے میں یہاں 365 بت موجود تھے اور بقول اکثر مورخین عرب اس میں حضرت ابراہیم اور حضرت مریم اور دیگر انبیاء کی مورتیں بھی تھیں؟ تاریخ اسلام و سیرت النبی صلیلی کیم کی کتب اور کتب حدیث و اسماء الرجال میں بھی عرب کی اخلاقی بد حالی کے متعلق بہت کچھ بیان کیا گیا ہے۔مثلا لکھا ہے کہ بے شرمی اس حد تک تھی کہ کعبہ کا بھی برہنہ طواف کرتے تھے۔(7 غسل یا طہارت کے وقت پر دے کا کوئی خیال نہ کرتے تھے۔(8) شعر و غزل کی محفلوں میں کھلے عام زنا کے قصے بیان کر نا عام بات تھی۔نکاح و شادی کے بعض بہت بے شرمی کے رواج تھے جیسے یہ کہ بعض اوقات ایک عورت ایک ہی وقت میں کئی آدمیوں کی زوجیت میں ہوتی تھی۔(9) اسی طرح ایک مورخ لکھتا ہے : "The Ayyam al Arab were intertribal hostilities generally arising from disputes over cattle, pasture lands or springs, they afforded ample opportunity for plundering and raiding, for the manifestation of single-handed deeds of heroism by the champions of the 7