سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 5 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 5

اخلاقی حالت: ظہور اسلام سے قبل عرب کی بلکہ تمام ممالک کی اخلاقی حالت بہت گری ہوئی تھی آپ نے اس بارہ میں بھی بڑی تفصیل بیان فرمائی ہے۔تا معلوم ہو کہ کس تاریکی سے نکال کر انکو روشنی کے مینار بنا دیا گیا۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں۔" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس زمانہ میں مبعوث ہوئے تھے کہ جب تمام دنیا میں شرک اور گمراہی اور مخلوق پرستی پھیل چکی تھی۔اور تمام لوگوں نے اصول حقہ کو چھوڑ دیا تھا اور صراط مستقیم کو بھول بھلا کر ہر ایک فرقہ نے الگ الگ بدعتوں کا راستہ لے لیا تھا۔عرب میں بت پرستی کا نہایت زور تھا۔فارس میں آتش پرستی کا بازار گرم تھا۔ہند میں علاوہ بت پرستی کے اور صد با طرح کی مخلوق پرستی پھیل گئی تھی اور انہیں دنوں میں کئی پوران اور پستک کہ جن کے رو سے بیسیوں خدا کے بندے خدا بنائے گئے اور اوتار پرستی کی بنیاد ڈالی گئی۔تصنیف ہو چکی تھی اور بقول پادری بورٹ صاحب اور کئی فاضل انگریزوں کے ان دنوں میں عیسائی مذہب سے زیادہ اور کوئی مذہب خراب نہ تھا اور پادری لوگوں کی بد چلنی اور بد اعتقادی سے مذہب عیسوی پر ایک سخت دھبہ لگ چکا تھا۔اور مسیحی عقائد میں نہ ایک نہ دو بلکہ کئی چیزوں نے خدا کا منصب لے لیا تھا“ (براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 112 حاشیہ 1) اور ہماے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت میں مبعوث ہوئے تھے۔جبکہ دنیا ہر ایک پہلو سے خراب اور تباہ ہو چکی تھی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِ وَالْبَحْر (الروم: 42) یعنی جنگل بھی بگڑ گئے اور دریا بھی بگڑ گئے۔یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ جو اہل کتاب کہلاتے ہیں ہ بھی بگڑ گئے اور جو دوسرے لوگ ہیں جن کو الہام کا پانی نہیں ملا وہ بھی بگڑ گئے ہیں۔پس قرآن شریف کا کام در اصل مُردوں کو زندہ کرنا تھا۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِي الْأَرْضِ بَعْدِ مَوْتِهَا (الحديد : 18) یعنی یہ بات جان لو کہ اب اللہ تعالیٰ نئے سرے زمین کو بعد اس کے مرنے کے زندہ کرنے لگا ہے۔اس زمانہ میں عرب کا حال نہایت درجہ کی وحشیانہ حالت تک پہنچا ہوا تھا اور کوئی نظام ا پوران یا پر ان ہندومت کی مشہور کتا ہیں، پستک: کتاب، صحیفہ 5