سیرة النبی ﷺ — Page 4
بحرین۔عرب کے مشرق میں بحرین کا علاقہ ہے۔یہاں اس وقت ایران کی حکومت تھی یہاں کے مشہور قبائل عبد القیس، بکر بن وائل، اور تمیم تھے۔قبائل غطفان۔عرب کے وسط یعنی مسجد کے علاقہ میں غطفانی قبائل آباد تھے۔ان میں سے قبائل الشجع، مروہ، فزارہ، کعب اور کلاب وغیرہ قابل ذکر تھے۔یہ اندرونی طور پر آزاد تھے لیکن بیرونی معاملات میں بوقت ضرورت متحد ہو جایا کرتے تھے۔خیبر و فدک۔مدینہ کے شمال مشرق میں خیبر اور فدک کا علاقہ تھا۔اس علاقہ میں یہود آباد تھے۔یہاں یہود نے مضبوط قلعے بنارکھے تھے۔اوس و خزرج۔مدینہ میں دو مشہور مشرک قبائل آباد تھے۔اوس و خزرج۔ان دونوں قبائل کی آپس میں شدید دشمنی تھی۔اور کئی جنگیں لڑچکے تھے۔انکی آخری جنگ نبوت کے تیرھویں سال ہوئی۔قبائل عرب میں سب سے پہلے اسلام انہی نے قبول کیا اور انصار کہلائے۔مدینہ کے یہودی قبائل۔مدینہ میں تین یہودی قبائل آباد تھے۔بنو قینقاع، بنو نضیر ، اور بنو قریظہ۔قریش مکہ۔عرب کا سب سے مشہور قبیلہ قریش تھا جو مکہ اور اسکے ارد گرد آباد تھا۔قریش قبیلہ کعبہ کی تولیت کی وجہ سے عرب کا سب سے معزز قبیلہ تھا۔خاص نسل اسماعیل میں سے تھا۔قریش اندرونی طور پر بھی تقسیم در تقسیم کا شکار ہو چکا تھا۔یہ چند مشہور قبائل کا ذکر ہے لیکن اسکے علاوہ بھی بیسیوں قبائل آباد تھے۔الغرض جزیرہ نما عرب مختلف اقوام اور قبائل اور مذاہب اور تمدنوں اور رواجوں کا ایک تیر تھ بنا ہوا تھا۔جہاں کوئی مرکزی حکومت نہ تھی۔لیکن مجموعی طور پر عرب کو ایران کا ایک محروسہ علاقہ سمجھا جاتا تھا۔