سیرة النبی ﷺ — Page 241
باہر آویں آخر خدا نے اپنی مصلحت سے آپ کو خود باہر نکالا اور آپ کے ذریعے سے دنیا پر اپنے نور کو ظاہر کیا۔شعر سُننا اور شعر کہنا: ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن جلد 3 صفحہ 619) شعر و شاعری کے متعلق اسوہ رسول سے کیا ر ہنمائی ملتی ہے اس کے متعلق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: محضرت علی اہل علم نے بھی خود شعر پڑھے ہیں۔پڑھنا اور کہنا ایک ہی بات ہے۔پھر آنحضرت مصلی یکم کے صحابی شاعر تھے۔حضرت عائشہ۔امام حسن اور امام حسین کے قصائد مشہور ہیں۔حسان بن ثابت نے آنحضرت ملا لی ایم کی وفات پر قصیدہ لکھا۔سید عبد القادر صاحب نے بھی قصائد لکھے ہیں۔کسی صحابی کا ثبوت نہ دے سکو گے کہ اس نے تھوڑا یا بہت شعر نہ کہا ہو مگر آنحضرت صلی ا ولم نے کسی کو منع نہ فرمایا۔قرآن کی بہت سی آیات شعروں سے ملتی ہیں۔ایک شخص نے عرض کی کہ سورہ شعراء میں اخیر پر شاعروں کی مذمت کی ہے فرمایا کہ:۔وہ مقام پڑھو۔وہاں خدا نے فسق و فجور کرنیوالے شاعروں کی مذمت کی ہے اور مومن شاعر کا وہاں خود استثناء کر دیا ہے۔پھر ساری زبور نظم ہے، یرمیاہ، سلیمان اور موسیٰ کی نظمیں تو رات میں ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نظم گناہ نہیں ہے ہاں فسق و فجور کی نظم نہ ہو۔ہمیں خود الہام ہوتے ہیں بعض ان میں سے متقی اور بعض شعروں میں ہوتے ہیں“ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 3 صفحہ 162) ایک صحابی نے آنحضرت صلی ایام کے بعد مسجد میں شعر پڑھے۔حضرت عمرؓ نے روکا کہ مسجد میں مت پڑھو۔وہ غصہ میں آگیا اور کہا کہ تو کون ہے کہ مجھے روکتا ہے میں نے اسی جگہ اور اسی مسجد میں آنحضرت علی ایم کے سامنے اشعار پڑھے تھے اور آپ نے مجھے منع نہ کیا۔حضرت عمرؓ خاموش ہو گئے“ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 3 صفحہ 162) محضرت معلوم کے پاس ہزاروں شاعر آتے اور آپ کی تعریف میں شعر کہتے تھے مگر لعنتی ہے وہ دل جو خیال کرتا ہے کہ آنحضرت علی کم ان کی تعریفوں سے پھولتے تھے وہ ان کو مردہ کیڑے کی 241