سیرة النبی ﷺ — Page 3
سیاسی حالات حضور نے ظہور اسلام کے وقت عرب اور اسکے ارد گرد کی سلطنتوں کے سیاسی و تمدنی حالات بھی بیان فرمائے ہیں۔اس جگہ اس بات کا جتلا دینا فائدہ سے خالی نہ ہو گا کہ خسرو پرویز کے وقت میں اکثر حصہ عرب کا پایہ تخت ایران کے ماتحت تھا اور گو عرب کا ملک ایک ویرانہ سمجھ کر جس سے کچھ خراج حاصل نہیں ہو سکتا تھا چھوڑا گیا تھا مگر تاہم بگفتن وہ ملک اسی سلطنت کے ممالک محروسہ میں سے شمار کیا جاتا تھا لیکن سلطنت کی سیاست مدنی کا عرب پر کوئی دباؤ نہ تھا اور نہ وہ اس سلطنت کے سیاسی قانون کی حفاظت کے نیچے زندگی بسر کرتے تھے بلکہ بالکل آزاد تھے اور ایک جمہوری سلطنت کے رنگ میں ایک جماعت دوسروں پر امن اور عدل اپنی قوم میں قائم رکھنے کے لئے حکومت کرتی تھی جن میں سے بعض کی رائے کو سب سے زیادہ نفاذ احکام میں عزت دی جاتی تھی اور اُن کی ایک رائے کسی قدر جماعت کی رائے کے ہم پلہ سمجھی جاتی تھی۔“ تریاق القلوب۔روحانی خزائن۔جلد 15 حاشیہ صفحہ 376) ذیل میں ظہور اسلام سے قبل عرب میں مشہور قبائل اور ریاستوں کا ذکر کرنا مناسب ہے تاکہ معلوم ہو کہ عرب کس طرح قبائل واقوام میں بٹا ہوا تھا۔جس کا اپنا کوئی مرکزی نظام یا شریعت نہ تھی۔غسان۔عرب کے شمال میں ایک ریاست تھی جسکے باشندے مذہب عیسائی تھے لیکن نسلا عرب تھے۔یہ در اصل رومی حکومت کے تحت تھے۔عرب میں عیسائیت بھی سب سے پہلے عنسان میں داخل ہوئی۔(2) یمن۔عرب کے جنوب میں یمن کا علاقہ تھا اس میں عیسائی اور مشرک قبائل آباد تھے یمن کے مشرکین کی حمایت بالعموم فارس کے ساتھ تھی اور عیسایوں کی حمایت روم اور حبشہ کے ساتھ تھی۔دور رسالت میں یمن کے اکثر حصہ پر ایران کی حکومت تھی ایران کی طرف سے باذان نامی گورنر مقرر تھا۔نجران۔نجران کا علاقہ بھی عرب کے جنوب میں یمن کے قریب ہی تھا اس علاقے میں عیسائیت کا زور تھاروم کے پوپ کی طرف سے یہاں بشپ اور آرچ بشپ بھی مقرر ہوتے تھے۔