سیرة النبی ﷺ — Page 235
نشانیوں میں سے ہیں جن سے اللہ لوگوں کو ہوشیار کرتا ہے اس کا تعلق کسی کی موت یا زندگی سے نہیں۔(9) حضرت ابراہیم بن رسول اللہ صلی لکھ میں حضرت ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔ساتویں دن انکا نام رکھا گیا اور عقیقہ کیا گیا۔ابراہیم کی وفات ناھ میں ہوئی۔انکی وفات کا آنحضور صلی علی یم کو بہت دکھ ہوا۔آپ نے ابراہیم کے جسد کو گود میں لیا اور اسے بوسہ دیا۔آپ کی آنکھیں نمناک تھیں جنہیں دیکھ کر حضرت عبد الرحمن بن عوف نے تعجب کا اظہار فرمایا۔آپ ملی لیے ہم نے فرمایا اے عبد الرحمان یہ تو رحمت کی وجہ سے ہے۔آنکھیں اشکبار ہیں اور دل حزیں ہے لیکن ہم اس کے سوا کچھ نہیں کہتے جس سے ہمارا خدا راضی ہو۔اگر چہ اے ابراہیم ہمارا دل تیری فرقت کے سبب غمگین ہے۔فقال لۂ عبدالرحمن بن عوف: وأنت يا رسول الله؟ فقال صلى الله عليه وسلم إنّ العين تدمع والقلب يحزن ولا نقول إلا ما يرضي ربنا، وإنا بفراقك يا إبراهيم لمحزونون (10) آنحضور کی بیٹیاں: فرمایا: ”دیکھو ہمارے پیغمبر خدا کے ہاں ۱۲ لڑکیاں ہوئیں۔آپ نے کبھی نہیں کہا کہ لڑکا کیوں نہ ہوا اور جب کوئی غم ہو تا تو اناللہ ہی کہتے رہے“ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن] جلد 3 صفحہ 372) حضور نے مندرجہ بالا ارشاد میں لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح دینے کے رواج کی اصلاح فرمائی ہے۔اور اس اسلامی تعلیم پر اسوہ نبی صلی علیم سے روشنی ڈالی ہے۔یہاں بھی بعض غیر از جماعت اعتراض کرتے ہیں آنحضور صلی کم کی تو صرف چار بیٹیاں تھیں یہاں بارہ کیوں لکھا گیا ہے۔اس سلسلہ میں بھی اصولی جواب یہی ہے کہ یہاں جو مضمون بیان کیا گیا ہے اس میں تعداد کی کمی بیشی سے خاص فرق نہیں پڑتا۔دوسری بات یہ ہے کہ یہ سہو کاتب بھی ہو سکتا ہے۔اور بالخصوص یہ ارشاد جس کیفیت میں نوٹ کیا گیا اس میں سہو کاتب کا امکان موجود ہے۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ یہ ارشاد دراصل احمدی خواتین کی مجلس کو وعظ ونصائح میں سے ایک مجلس کا حصہ ہے جو حضور نے 1902 1903 میں فرمائے تھے۔یہ وعظ بالعموم عصر اور مغرب کے درمیان ہوا کرتے تھے۔اس میں بعض اوقات تعطل بھی آجاتا تھا۔اس وعظ کو اکثر حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب ضبط تحریر میں لایا کرتے تھے۔جن سے سہو کا امکان بہت کم تھا۔لیکن اس روز انکی جگہ کسی اور کاتب نے یہ وعظ نوٹ کیا۔اور اسکے شروع میں لکھا کہ یہ وعظ ہمیں بالواسطہ ملا ہے (11) پھر البدر جلد نمبر 2 نمبر 27 صفحہ 210 ، 211 میں مورخہ 24 جولائی 1903 کو شائع ہوا اور اسکے شروع میں یہ نوٹ ہے کہ [ حضرت اقدس نے 12 جولائی 1903 کو اندرون خانہ بوقت بین 235