سیرة النبی ﷺ — Page 234
مندرجہ بالا ارشاد میں آپ نے سیرت النبی صلی للی نام کے ایک نہات اہم پہلو صبر ، تنتبل الی اللہ اور فنافی اللہ کو نہایت دلکش الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔اور اس ارشاد میں آپ کی شادیوں کی غرض بھی بیان کی گئی ہے۔اسی طرح ”جو لخت جگر ہوتے ہیں“ میں یہ بھی پہلو جھلکتا ہے کہ آنحضور صلی ایم کو بچوں سے بہت پیار تھا گویا لخت جگر تھے لیکن خدا کی محبت اس محبت پر غالب تھی۔اکثر تاریخ کی کتب میں آنحضور صلی علی ایم کے لڑکوں کی تعداد چار بیان کی گئی ہے لیکن وہ روایات بھی موجود ہیں جن میں لڑکوں کی تعداد گیارہ لکھی گئی ہے۔اور اس ارشاد میں سیرت کا جو حسین پہلو بیان ہو ا ہے اس میں تعداد کم یا زیادہ ہونے سے کوئی فرق تو نہیں پڑتا لیکن اس ارشاد کی تائید میں چند حوالے درج کئے جاتے ہیں جن میں آپ کے لڑکوں کی تعداد گیارہ بیان کی گئی ہے۔مثلاً سیرت الحلبیہ میں تعداد گیارہ والی روایت موجود ہے اور نام بھی درج ہیں قاسم، عبد اللہ ( قبل از بعثت)، طیب طاہر۔طاہر و مطیب (جڑواں)، طیب اور مطیب (جڑواں)، عبد مناف، عبد الله (بعد از بعثت)، ابراہیم (7) اسی طرح تاریخ الخمیس تعداد ایک روایت میں گیارہ اور دوسری میں بارہ بیان ہوئی ہے۔(8) ابراہیم کی وفات پر سورج گرہن: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے: " ومن اوهامهم الواهية ان كسوف الشمس قبل ايامها المقررة واوقاتها المقدرة ليس اللہ خالق السموات والارضين وقالوا ان ابراهيم ابن رسول ببعيد من اللہ اللہ صلی علیہ وسلم مات يوم العاشر من الشهر وعند ذلك كسفت الشمس باذن الله الرحمان فكيف لا تنكسف فى آخر الزمان باذن ربّ العالمين ولا يعلمون ان هذا القول ليس بصحيح بل هو من نوع كذب صريح و من كلمات المفترين 66 (نور الحق، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 264،263) مندرجہ بالا ارشاد میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ابراہیم بن رسول اللہ صلی المی ریم کے متعلق ایک مشہور روایت کا ذکر فرمایا ہے۔بیان کیا جاتا ہے کہ انکی وفات کے دن سورج گرہن ہوا جس پر بعض لوگوں نے خیال کیا کہ شاید یہ انکی وفات کی وجہ سے ہوا ہے۔آنحضور صلی ایم نے فرمایا کہ سورج اور چاند کا گرہن اللہ کی 234