سیرة النبی ﷺ — Page 233
شور سے اس قانون کو دوبارہ جاری کرنے کے لئے سلسلہ جنبانی کی ہے یہ سب باتیں اس بات پر گواہ ہیں کہ انجیل کی تعلیم ناقص ہے۔اور اس میں تمدن کے ہر یک پہلو کا لحاظ نہیں کیا گیا“ ( نور القرآن نمبر 2 روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 450 تا452) مندرجہ بالا ارشادات میں متعہ کے متعلق اصولی طور پر یہ باتیں بیان کی گئی ہیں کہ ”وحی اور الہام سے نہیں بلکہ جو قوم میں پرانی رسم تھی معمولی طور پر اس پر عمل ہو گیا “ اور جب نکاح و شادی کے احکام نازل ہو گئے تو آنحضور صلی ال کلم نے متعہ کی رسم کی کلیتاً ممانعت فرما دی۔(4) ایک روایت ہے کہ رخص رسول الله ﷺ عَامَ أوطاس في المتعه ثُمَّ لَهَا عَنهَا که آنحضور صلی علیم نے اوطاس والے سال متعہ کی اجازت دی تھی پھر اس کی ممانعت کہ آنحضور متعہ فرما دی۔(5) اسی طرح متعہ کی ممانعت کے متعلق ایک بڑی واضح حدیث ہے کہ عن علی رضی اللہ عنہ قال لابن عباس ان النبي نهي عن المتعه ولحوم الحمر الاهليه زمن خيبر - نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے روز عورتوں سے متعہ کرنے اور گھریلو گدھے کے گوشت سے روک دیا۔(6) (نوٹ : مندرجہ بالا ایک روایت جہاں غزوہ اوطاس میں متعہ کی اجازت کا ذکر ہے یہ راوی کی غلطی ہے اصل میں یہ غزوہ بنی مصطلق کا واقعہ ہے جو پانچ ہجری میں ہوا تھا۔) اولا د النبی صلى اللوم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ فرمایا: تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آپ کے گھر میں گیارہ لڑکے پیدا ہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہو گئے تھے اور آپ نے ہر ایک لڑکے کی وفات کے وقت یہی کہا کہ مجھے اس سے کچھ تعلق نہیں میں خدا کا ہوں اور خدا کی طرف جاؤں گا۔ہر ایک دفعہ اولاد کے مرنے میں جو لخت جگر ہوتے ہیں یہی منہ سے نکلتا تھا کہ اے خداہر ایک چیز پر میں تجھے مقدم رکھتا ہوں مجھے اس اولاد سے کچھ تعلق نہیں کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ آپ بالکل دنیا کی خواہشوں اور شہوات سے بے تعلق تھے اور خدا کی راہ میں ہر ایک وقت اپنی جان ہتھیلی پر رکھتے تھے“ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 299) 233