سیرة النبی ﷺ — Page 230
مجھے رونا آگیا۔قیصر اور کسریٰ جو کا فر ہیں آرام کی زندگی بسر کر رہے اور آپ ان تکالیف میں بسر کرتے ہیں۔تب آنجناب نے فرمایا کہ مجھے اِس دُنیا سے کیا کام! میری مثال اُس سوار کی ہے کہ جو شدت گرمی کے وقت ایک اونٹنی پر جارہا ہے اور جب دو پہر کی شدت نے اُس کو سخت تکلیف دی تو وہ اسی سواری کی حالت میں دم لینے کے لئے ایک درخت کے سایہ کے نیچے ٹھہر گیا اور پھر چند منٹ کے بعد اُسی گرمی میں اپنی راہ لی۔اور آپ کی بیویاں بھی بجز حضرت عائشہ کے سب سن رسیدہ تھیں بعض کی عمر ساٹھ ۶۰ برس تک پہنچ چکی تھی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا تعدد ازواج سے یہی اہم اور مقدم مقصود تھا کہ عورتوں میں مقاصد دین شائع کئے جائیں اور اپنی صحبت میں رکھ کر علم دین اُن کو سکھایا جائے تا وہ دوسری عورتوں کو اپنے نمونہ اور تعلیم سے ہدایت دے سکیں۔یہ آپ ہی کی سنت مسلمانوں میں اب تک جاری ہے کہ کسی عزیز کی موت کے وقت کہا جاتا ہے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ یعنی ہم خدا کے ہیں اور خدا کا مال ہیں اور اُسی کی طرف ہمارار جوع ہے۔سب سے پہلے یہ صدق و وفا کے کلمے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے تھے پھر دوسروں کے لئے اس نمونہ پر چلنے کا حکم ہو گیا۔اگر آنجناب بیویاں نہ کرتے اور لڑکے پیدا نہ ہوتے تو ہمیں کیونکر معلوم ہوتا کہ آپ خدا کی راہ میں اس قدر فدا شدہ ہیں کہ اولاد کو خدا کے مقابل پر کچھ بھی چیز نہیں سمجھتے۔اب تم مقابلہ کرو کہ ایک طرف تو وہ آر یہ ہیں کہ جو اولاد حاصل کرنے کے لالچ سے اپنی بیویوں سے نیوگ کراتے ہیں جو سراسر حرامکاری ہے اور ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو ہر ایک فرزند عزیز کے مرنے پر یہ کہتے ہیں کہ مجھے کسی سے تعلق نہیں مجھے خدا تعالیٰ سے تعلق ہے۔پس یہ پوشیدہ تعلق بجز ان امتحانوں کے کیونکر ثابت ہو سکتا تھا ؟ اسی بناپر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ یعنی اے نبی لوگوں کو کہدے کہ میں صرف خدا کا پرستار ہوں دوسری کسی چیز سے میرا تعلق نہیں اور میرازندہ رہنا اور میر امر نا صرف اس خدا کے لئے ہے جو تمام عالموں کا پروردگار ہے۔دیکھو اس آیت میں کیسی ماسوی اللہ سے بے تعلقی ظاہر کی گئی ہے“ (چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 297 تا 301) 230