سیرة النبی ﷺ — Page 231
متعہ کا جائز کرنا اور پھر ناجائز کرنا: بعض غیر مسلم متعہ کو اسلامی تعلیمات کا حصہ قرار دے کر اسلام کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔اور بعض متعہ کو ہند و عقیدہ نیوگ کی مانند قرار دیتے ہیں۔اسی طرح بعض مسلمان فرقے مثلاً شیعہ متعہ کو اب تک جائز قرار دیتے ہیں اس مسئلہ پر آپ نے ان الفاظ میں روشنی ڈالی ہے فرمایا: اور بعض آر یہ نیوگ کے مقابل پر اسلام پر یہ الزام لگانا چاہتے ہیں کہ اسلام میں متعہ یعنی نکاح موقت جائز رکھا گیا ہے جس میں ایک مدت تک نکاح کی میعاد ہوتی ہے اور پھر عورت کو طلاق دی جاتی ہے۔لیکن ایسے معترضوں کو اس بات سے شرم کرنی چاہئے تھی کہ نیوگ کے مقابل پر متعہ کا ذکر کریں۔اول تو متعہ صرف اس نکاح کا نام ہے جو ایک خاص عرصہ تک محدود کر دیا گیا ہو پھر ماسوا اس کے متعہ اوائل اسلام میں یعنی اس وقت میں جبکہ مسلمان بہت تھوڑے تھے صرف تین دن کے لئے جائز ہوا تھا اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ وہ جو از اس قسم کا تھا جیسا کہ تین دن کے بھوکے کے لئے مردار کھانا نہایت بے قراری کی حالت میں جائز ہو جاتا ہے اور پھر متعہ ایسا حرام ہو گیا جیسے سور کا گوشت اور شراب حرام ہے اور نکاح کے احکام نے متعہ کے لئے قدم رکھنے کی جگہ باقی نہیں رکھی۔قرآن شریف میں نکاح کے بیان میں مردوں کے حق عورتوں پر اور عورتوں کے حق مردوں پر قائم کئے گئے ہیں اور متعہ کے مسائل کا کہیں ذکر بھی نہیں۔اگر اسلام میں متعہ ہوتا تو قرآن میں نکاح کے مسائل کی طرح متعہ کے مسائل بھی بسط اور تفصیل سے لکھے جاتے لیکن کسی محقق پر پوشیدہ نہیں کہ نہ تو قرآن میں اور نہ احادیث میں متعہ کے مسائل کا نام و نشان ہے لیکن نکاح کے مسائل بسط اور تفصیل سے موجود ہیں“ ایک اور جگہ فرمایا: آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 68،67) ما الجواب نادان عیسائیوں کو معلوم نہیں کہ اسلام نے متعہ کو رواج نہیں دیا۔بلکہ جہان تک ممکن تھا اس کو دنیا میں سے گھٹایا اسلام سے پہلے نہ صرف عرب میں بلکہ دنیا کی اکثر قوموں میں متعہ کی رسم تھی یعنی یہ کہ ایک وقت خاص تک نکاح کرنا پھر طلاق دے دینا اور اس رسم کے پھیلانے والے اسباب میں سے ایک یہ بھی سبب تھا کہ جو لوگ لشکروں میں منسلک ہو کر دوسرے ملکوں میں جاتے تھے یا بطریق تجارت ایک مدت تک دوسرے ملک میں رہتے تھے ان کو موقت نکاح یعنی متعہ کی ضرورت 231