سیرة النبی ﷺ — Page 2
اس آخری نور کا عرب سے ظاہر ہونا بھی خالی حکمت سے نہ تھا۔عرب وہ بنی اسماعیل کی قوم تھی جو اسرائیل سے منقطع ہو کر حکمت الہی سے بیابانِ فاران میں ڈال دی گئی تھی اور فاران کے معنی ہیں دو فرار کرنے والے یعنی بھاگنے والے۔پس جن کو خود حضرت ابراہیم نے بنی اسرائیل سے علیحدہ کر دیا تھا اُن کا توریت کی شریعت میں کچھ حصہ نہیں رہا تھا۔جیسا کہ لکھا ہے کہ وہ اسحاق کے ساتھ حصہ نہیں پائیں گے۔پس تعلق والوں نے انہیں چھوڑ دیا اور کسی دوسرے سے ان کا تعلق اور رشتہ نہ تھا۔اور دوسرے تمام ملکوں میں کچھ کچھ رسوم عبادات اور احکام کی پائی جاتی تھیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ کسی وقت ان کو نبیوں کی تعلیم پہنچی تھی۔مگر صرف عرب کا ملک ہی ایک ایسا ملک تھا جو ان تعلیموں سے محض ناواقف تھا اور تمام جہان سے پیچھے رہا ہوا تھا۔اس لئے آخر میں اُسکی نوبت آئی اور اس کی نبوت عام ٹھہری تا تمام ملکوں کو دوبارہ برکات کا حصہ دیوے اور جو غلطی پڑ گئی تھی اس کو نکال دے۔پس ایسی کامل کتاب کے بعد کس کتاب کا انتظار کریں جس نے سارا کام انسانی اصلاح کا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور پہلی کتابوں کی طرح صرف ایک قوم سے واسطہ نہیں رکھا۔بلکہ تمام قوموں کی اصلاح چاہی اور انسانی تربیت کے تمام مراتب بیان فرمائے۔وحشیوں کو انسانیت کے آداب سکھائے۔پھر انسانی صورت بنانے کے بعد اخلاق فاضلہ کا سبق دیا“ (روحانی خزائن، اسلامی اصول کی فلاسفی، جلد 10 صفحہ 367) اس ارشاد میں حضور نے جو نکات بیان فرمائے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل کے متعلق خدا تعالیٰ نے جو وعدے کئے تھے انکے پورا ہونے کے لئے ضروری تھا کہ انکے دونوں بیٹوں کی نسلوں کو نبوت و شریعت کی نعمت سے نوازا جاتا۔حضرت اسحق علیہ السلام کی نسل یعنی بنی اسرائیل میں خدا تعالیٰ نے پے در پے انبیاء مبعوث فرمائے جبکہ انکے بھائی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل جو عرب میں آکر آباد ہوئی اس میں اُس وقت تک نبوت منقطع تھی اور ان کے پاس کوئی شریعت نہ تھی گویا اقی تھے۔انہی اتمیوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کئے گئے وعدوں کے مطابق آنحضور صلی علیہ کام کو مبعوث فرمایا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں اور ان سے کئے گئے وعدوں کا ذکر قرآن میں اور بائیبل میں موجود ہے (1) حضرت اسماعیل علیہ السلام کا حجاز میں آکر آباد ہونا اور آنحضور صلی للی یکم کا نسل اسماعیل سے ہونا بھی ثابت شدہ حقیقت ہے۔2