سیرة النبی ﷺ — Page 215
بناوٹ اور تکلف سے پاک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساری باتوں کے کامل نمونہ ہیں آپ کی زندگی میں دیکھو کہ آپ عورتوں سے کیسی معاشرت کرتے تھے میرے نزدیک وہ شخص بزدل اور نامرد ہے جو عورت کے مقابلہ میں کھڑا ہوتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی کو مطالعہ کرو تا تمہیں معلوم ہو کہ آپ ایسے خلیق تھے۔باوجودیکہ آپ بڑے بارعب تھے لیکن اگر کوئی ضعیفہ عورت بھی آپ کو کھڑا کرتی تو آپ اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک کہ وہ اجازت نہ دے آپ سودے خود خرید لایا کرتے تھے ایک بار آپ نے کچھ خریدا تھا ایک صحابی نے عرض کی کہ حضور مجھے دیدیں آپ نے فرمایا کہ جس کی چیز ہو اس کو ہی اٹھانی چاہئے اس سے یہ نہیں نکالنا چاہئے کہ آپ لکڑیوں کا گٹھا بھی اٹھا کر لایا کرتے تھے غرض ان واقعات سے یہ ہے کہ آپ کی سادگی اور اعلیٰ درجہ کی بے تکلفی کا پتہ لگتا ہے آپ پا پیادہ ہی چلا کرتے تھے اس وقت یہ کوئی تمیز نہ ہوتی تھی کہ کوئی آگے ہے یا پیچھے۔جیسا کہ آج کے وضعدار لوگوں میں پایا جاتا ہے کہ کوئی آگے نہ ہونے پائے یہاں تک سادگی تھی کہ بعض اوقات لوگ تمیز نہیں کر سکتے تھے کہ ان میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابو بکر کی داڑھی سفید تھی لوگوں نے یہی سمجھا کہ آپ ہی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن جب حضرت ابو بکر نے اٹھ کر کوئی خادمانہ کام کیا اور اس طرح پر سمجھا دیا کہ آپ پیغمبر نہیں تب معلوم ہوا بعض وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے ساتھ دوڑے بھی ہیں ایک مرتبہ آپ آگے نکل گئے اور دوسری مرتبہ خود نرم ہو گئے تا کہ حضرت عائشہ آگے نکل جائیں اور وہ آگے نکل گئیں اسی طرح پر یہ بھی ثابت ہے کہ ایک بار کچھ حبشی آئے جو تماشہ کرتے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کو ان کا تماشاہ دکھایا اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب آئے تو وہ حبشی ان کو دیکھ کر بھاگ گئے“۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 387،388) 215