سیرة النبی ﷺ — Page 187
”جب میں دیکھتا ہوں کہ جناب سید المرسلین جنگ احد میں اکیلے ہونے کی حالت میں برہنہ تلواروں کے سامنے کہہ رہے تھے میں محمد ہوں۔میں نبی اللہ ہوں۔میں ابن عبد المطلب ہوں “[ نوٹ : سہو ہے یہ واقعہ غزوہ حنین کا ہے۔شمس ] اس غزوہ میں مسلمانوں کی حالت کا ذکر قرآن کریم میں ان الفاظ میں ہے نور القرآن نمبر 2 روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 406) لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُدْبِرِينَ ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَنْزَلَ جُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ۔ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (التوبه:25-27) یقینا اللہ بہت سے میدانوں میں تمہاری مدد کر چکا ہے اور (خاص طور پر) حنین کے دن بھی جب تمہاری کثرت نے تمہیں تکبر میں مبتلا کر دیا تھا۔پس وہ تمہارے کسی کام نہ آسکی اور زمین کشادہ ہونے کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی پھر تم پیٹھ دکھاتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے۔پھر اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر اپنی سکینت نازل کی اور ایسے لشکر اتارے جنہیں تم دیکھ نہیں سکتے تھے اور اس نے ان لوگوں کو عذاب دیا جنہوں نے کفر کیا تھا اور کافروں کی ایسی ہی جزا ہوا کرتی ہے۔پھر اس کے بعد بھی اللہ جس پر چاہے گا تو بہ قبول کرتے ہوئے جھک جائے گا اور اللہ بہت بخشنے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔فتح مکہ کے بعد آنحضرت صلی للی نما بھی مکہ میں ہی تھے کہ اطلاعات ملیں کہ حنین اور طائف کے قبائل مکہ پر حملہ کی پوری تیاری اور ارادہ کر چکے ہیں بلکہ انکی طرف سے کھلم کھلا دھمکیاں بھی ملنی شروع ہوئیں۔جن میں انکے سردار مالک بن عوف نصری کی طرف سے ان قبائل میں اسلام دشمنی کی ایک روح پھونک دی گئی تھی۔آنحضور صلی علیکم نے مسلمانوں کو حسین کی طرف پیشقدمی کا حکم فرمایا شوال کو اسلامی فوج جسکی تعداد بارہ ہزار تھی حنین کی طرف بڑھی اس فوج میں دو ہزار کی تعداد میں مکہ کے نو مسلم اور اسی غیر مسلم بھی شامل ہوئے۔یہ دونوں گر وہ پہلی دفعہ اسلامی فوج کا حصہ بنے تھے۔اس لئے انکو اسلامی آداب جنگ اور اسلامی تعلیمات کا پوری طرح سے علم نہیں تھا۔یہی وجہ تھی کہ ان میں سے کسی نے اتنی بڑی تعداد میں اپنی فوج دیکھ کر یہ کہہ دیا کہ لن نغلب اليوم 187