سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page xxi of 304

سیرة النبی ﷺ — Page xxi

ہیں جن کا ہماری معتبر کتابوں میں نام و نشان نہیں۔اس سے زیادہ ہمارے دل دکھانے کا اور کیا موجب ہو گا کہ چند بے بنیاد افتر اؤں کو پیش کر کے ہمارے اس سید و مولی محمد مصطفی صلی ا م پر زنا اور بدکاری کا الزام لگانا چاہتے ہیں جس کو ہم اپنی پوری تحقیق کی رُو سے سید المعصومین اور ان تمام پاکوں کے سردار سمجھتے ہیں جو عورت کے پیٹ سے نکلے اور اس کو خاتم الانبیاء جانتے ہیں کیونکہ اس پر تمام نبو تیں اور تمام پاکیز گیاں اور تمام کمالات ختم ہو گئے“۔آریہ دھرم روحانی خزائن جلد 10، صفحہ 84) بلاشبہ آپ نے تحقیق کا حق ادا کیا لیکن سب سے اہم ذریعہ آپ کے علم و عرفان کا وہ سلسلہ وحی والہام و کشوف ہے جو ہمیشہ آپ کی زندگی میں جاری رہا جس کے ساتھ آپ کو علم و عرفان کے خزائن عطا فرمائے گئے اور وہ خزائن آپ نے دنیا میں تقسیم کئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ آپ نے تاریخ اسلام اور سیرت النبی صلی الی یوم کے واقعات کو گہری محبت میں ڈوبے ہوئے دل اور الہام کی روشنی سے معطر نہایت دلر با انداز سے بیان فرمایا ہے۔اور کچھ تحریرات کے بارہ میں تو آپ نے فرما بھی دیا کہ یہ عبارت الہامی ہے۔مثلا ایک واقعہ بیان فرمانے کے بعد فرمایا: یہ سب مضمون ابو طالب کے قصہ کا اگر چہ کتابوں میں درج ہے مگر یہ تمام عبارت الہامی ہے۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 111،110) اسی طرح ایک مجلس میں حدیثوں کے متعلق ذکر ہو رہا تھا تو آپ نے فرمایا ”ہم تو اس بحث میں نہیں پڑتے۔حدیث والے سے پوچھ لیتے ہیں کہ کیا یہ آپ کی حدیث ہے یا نہیں“۔( اصحاب احمد جلد 10، حصہ اول صفحہ 262) اللہ تعالیٰ ہمیں آپ کے بیان فرمائے ہوئے خطوط اور مقاصد کے تحت تاریخ اسلام اور سیرت النبی صلی لیلی کیم کا مطالعہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔میں اللہ تعالیٰ کا بیحد شکر گزار ہوں جسکے فضل و کرم اور پیارے آقا حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دعاؤں سے امام الزمان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کے باغیچہ میں xviii