سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 183 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 183

انہدام اصنام بیان کیا جاتا ہے کہ فتح مکہ کے موقعہ پر آنحضور صلی اللی انم نے اپنے ہاتھ سے انہدام اصنام کیا تھا۔اس پر بعض غیر مسلم مورخین یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ کسی قوم کی مذہبی آزادی کے خلاف اقدام تھا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ان ارشادات میں ایک جملہ میں اس اعتراض کا کافی وشافی جواب فرما دیا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ ”آپ کی زندگی ہی میں سارا مکہ مسلمان ہو گیا اور ان بتوں کے پجاریوں ہی نے ان کو توڑا۔اور ان کی مذمت کی“ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن جلد 3 صفحہ 525,524) کرد ثابت بر جهان عجز بتان دا نموده زور آن یک قادری اس نے دنیا پر بتوں کا عجز ثابت کر دیا اور خدائے واحد کی طاقت کھول کر دکھا دی۔فتح مکہ کے ساتھ ہی اہل مکہ کا اپنے بتوں پر ایمان جاتارہا تھا کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ اگر بتوں میں کوئی طاقت ہوتی تو اس دن وہ ضرور انکی مدد کرتے۔جیسا کہ لکھا ہے کہ جب آنحضور صلی علیہم نے ابو سفیان کو کہا الم يانِ لَكَ انْ تعلمَ انَّهُ لَا الہ الا الله کیا ابھی بھی تم پر وقت نہیں آیا کہ جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ؟ اس نے جواب دیا میں بالکل سمجھ چکا ہوں کہ اللہ کے سوا اگر کوئی معبود ہو تا تو ہماری کچھ مدد تو کرتا۔(10) ابوسفیان تو سر داران مکہ میں سے تھا لیکن ملکہ کے اکثر لوگ تو اس سے بھی پہلے توحید پر قائم ہو چکے تھے۔عملا مکہ میں بتوں کا پجاری کوئی بھی نہ رہا تھا۔انہی لوگوں نے خود اپنے ہاتھوں سے بتوں کو توڑ ڈالا۔یہاں تک کہ کچھ ہی دن بعد جب غزوہ حنین ہو ا اس میں تمام اہل مکہ اسلام کے جھنڈے تلے آکر مشرکین سے نبرد آزما ہو رہے تھے۔لا تثريب عليكم اليوم فتح مکہ کے موقعہ پر عفو عام تاریخ عالم کا ایک درخشاں پہلو ہے۔اس کے متعلق سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔”ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ جب مکہ والوں نے آپ کو نکالا اور تیرہ برس تک ہر قسم کی تکلیفیں آپ کو پہنچاتے رہے آپ کے صحابہ کو سخت سخت تکلیفیں دیں جن کے تصور سے بھی دل کانپ 183