سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 166 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 166

اور آنحضرت علی السلام کے درمیان ایک دیوار حائل تھی جو آپ کے حسن و جمال پر ان کو اطلاع نہ پانے دیتی تھی اور جیسا دوسرے لوگ کذاب کہتے تھے (معاذ اللہ) وہ بھی کہہ دیتے تھے اور ان فیوض و برکات سے بے نصیب تھے جو آپ لے کر آئے تھے اس لیے کہ دور تھے لیکن جب وہ حجاب اٹھ گیا اور پاس آکر دیکھا اور سنا تو وہ محرومی نہ رہی اور سعیدوں کے گروہ میں داخل ہو گئے “ (ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 3 صفحہ 506) جیسا کہ حضور نے فرمایا ہے حدیبیہ کے قصہ کو خدا تعالیٰ نے فتح مبین کے نام سے موسوم کیا ہے گویا کہ یہ پیشگوئی تھی عظیم فتوحات کی اور آئندہ حالات نے اس بات کو سچ ثابت کر دیا۔حضرت براء کی ایک روایت ہے کہ تم لوگ فتح مکہ کو فتح قرار دیتے ہو جبکہ ہم بیعت رضوان کو فتحا مبینا قرار دیتے ہیں (12) صلح حدیبیہ کے بعد بڑی تیزی سے اسلام پھیلنا شروع ہوا حضرت خالد بن ولید اور حضرت عمرو بن العاص جیسے عظیم صحابہ کو قبول اسلام کا شرف نصیب ہوا۔معاہدہ امن کے تحت مسلمانوں نے اپنی پوری توجہ تبلیغ اسلام کی طرف مرکوز کر دی۔جسکے نتیجہ میں طول و عرض میں اسلام کا پیغام پہنچنا شروع ہوا۔تبلیغی وفود کی روانگی میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔اور اسلام کی تعلیمات کو پرکھنے کے لئے قبائل عرب کے متعدد وفود مدینہ کا سفر اختیار کرنے لگ گئے۔مختلف ممالک کے سلاطین کو بھی اسی دور میں ہی خطوط لکھے گئے۔اس طرح گویا تبلیغ کا ایک بند ٹوٹ گیا اور اسلام تیزی کے ساتھ پھیلنے لگا۔حدیبیہ کے سفر میں صرف چودہ سو صحابہ شامل ہوئے تھے لیکن ایک ہی سال بعد ہونے والے عمرہ کے سفر میں تعداد تقریباً چوبیس سو تھی۔اور اس ترقی کا اندازہ اس سے بھی لگا سکتے ہیں کہ غزوہ خندق میں مدینہ کی کل آبادی تین ہزار کے قریب تھی اور مدینہ سے باہر کوئی اکا دکا ہی مسلمان تھے لیکن فتح مکہ جو حدیبیہ کی شرائط کا ہی ثمر تھا اس میں دس ہزار قدوسیوں نے شرکت کی۔واقعہ سحر کی تردید: بعض مورخین نے بلکہ بعض محدثین نے بھی روایات درج کی ہیں جن میں بیان کیا جاتا ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد آنحضور صلی علیم پر کسی یہودی نے جادو کر دیا تھا۔جسکے اثر سے آپ کو نسیان اور سر درد کا عارضہ لاحق ہو گیا۔بعض اوقات آپ خیال فرماتے تھے آپ نے فلاں کام کر لیا ہے حالانکہ وہ کام نہیں کیا ہو تا تھا۔اسی طرح بعض اوقات ازواج کے گھر باریوں کے متعلق بھی آپ بھول جاتے تھے۔الغرض کہ اس قسم کے واقعات کی بنیاد پر یہ مشہور کر 166