سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 167 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 167

دیا گیا کہ آپ ایک یہودی کے جادو کے اثر میں ہیں۔اس قسم کی روایات کی حکم و عدل سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بڑے واضح الفاظ میں تردید فرمائی ہے۔جیسا کہ فرمایا ”جادو بھی شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔رسولوں اور نبیوں کی یہ شان نہیں ہوتی کہ ان پر جادو کا کچھ اثر ہو سکے۔بلکہ ان کو دیکھ کر جادو بھاگ جاتا ہے جیسے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيثُ أَتَى ( طه : 70) دیکھو حضرت موسیٰ کے مقابل پر جادو تھا۔آخر موسی غالب ہوا کہ نہیں؟ یہ بات بالکل غلط ہے کہ آنحضور کے مقابل جادو غالب آگیا۔ہم اس بات کو کبھی مان نہیں سکتے آنکھ بند کر کے بخاری اور مسلم کو مانتے جانا یہ ہمارے مسلک کے خلاف ہے۔یہ تو عقل بھی تسلیم نہیں کر سکتی کہ ایسے عالی شان نبی پر جادو اثر کر گیا ہو۔ایسی باتیں کہ اس جادو کی تاثیر سے (معاذ اللہ ) آنحضرت صلی الم کا حافظہ جاتا رہا۔یہ ہو گیا اور وہ ہو گیا، کسی صورت میں صحیح نہیں ہو سکتی۔معلوم ہوتا ہے کہ کسی خبیث آدمی نے اپنی طرف سے ایسی باتیں ملا دی ہیں۔گو کہ ہم نظر تہذیب سے احادیث کو دیکھتے ہیں لیکن جو حدیث قرآن کریم کے بر خلاف ہو اس کو ہم کب مان سکتے ہیں۔اس وقت احادیث جمع کرنے کا وقت تھا۔گو انہوں نے سوچ سمجھ کر احادیث کو درج کیا تھا مگر پوری احتیاج سے کام نہیں لے سکے۔وہ جمع کرنے کا وقت تھا لیکن اب نظر اور غور کرنے کا وقت ہے۔آثار نبوی جمع کرنا بڑے ثواب کا کام ہے۔لیکن یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جمع کرنے والے خوب غور سے کام نہیں لے سکتے اب ہر ایک کا اختیار ہے کہ خوب غور اور فکر سے کام لے۔جو ماننے والی ہو وہ مانے اور جو چھوڑنے والی ہو وہ چھوڑ دے۔ایسی بات کہ آنحضرت ملا م پر (معاذ اللہ ) جادو کا اثر ہو گیا تھا اس سے تو ایمان اُٹھ جاتا ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے اذيَقُولُ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجلُاً مَسحُوراً ( بنى اسرائیل: 38) ایسی ایسی باتیں کہنے والے تو ظالم ہیں نہ مسلمان۔یہ تو بے ایمانوں اور ظالموں کا قول ہے کہ آنحضور پر (معاذ اللہ ) سحر اور جادو ہو گیا تھا۔اتنا نہیں سوچتے کہ جب (معاذ اللہ ) آنحضور کا یہ حال ہے تو پھر امت کا کیا ٹھکانہ ؟ وہ تو پھر غرق ہو گئی۔معلوم نہیں کہ ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ جس معصوم نبی کو تمام انبیاء مش شیطان سے پاک سمجھتے آئے ہیں یہ انکی شان میں ایسے ایسے الفاظ بولتے ہیں“ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن] جلد 5 صفحہ 349،348) 167