سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 123 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 123

ملک عرب کے مشرق میں بحر فارس سے ملا ہوا ہے۔اُس زمانہ اس علاقہ سے مراد بحرین اور اسکا گردو نواح اور کوفہ وبصرہ کے قریب میدانی علاقوں تک پھیلا ہو ا علاقہ تھا اس علاقہ کو الحصاء بھی کہتے تھے۔(1) ھجر کے متعلق لکھا ہے کہ جنوبی عرب میں یہ لفظ شہر کے معنی میں استعمال ہو تا تھا۔اس لئے کئی شہروں کے ناموں کے ساتھ یہ لفظ آیا ہے۔مثلاً حجر نجران، حجر جازان اور حضر موت میں بھی غالباً حضر اور حجر ہم معنی ہیں۔ان میں سب سے زیادہ معروف جنوبی بحرین کا علاقہ ہے جو ایک زرخیز علاقہ ہے۔ہجرت کی وجہ : (2) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے سرمہ چشم آریہ میں آنحضور صلی یلم کی زندگی میں خدا تعالیٰ کی طرف سے جن پانچ خوارق عادت تصرفات کو بیان کیا ہے ان میں سے ایک ہجرت مدینہ کے واقعات ہیں جیسا کہ فرمایا۔”تیسرے وہ تصرف اعجازی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شر کفار سے محفوظ رکھنے کے لئے بروز ہجرت کیا گیا یعنے کفار مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ جل شانہ نے اپنے اس پاک نبی کو اس بد ارادہ کی خبر دے دی اور مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر جانے کا حکم فرمایا اور پھر بفتح و نصرت واپس آنے کی بشارت دی بدھ کا روز اور دو پہر کا وقت اور سختی گرمی کے دن تھے جب یہ ابتلا منجانب اللہ ظاہر ہوا اس مصیبت کی حالت میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ناگہانی طور پر اپنے قدیمی شہر کو چھوڑنے لگے اور مخالفین نے مار ڈالنے کی نیت سے چاروں طرف سے اس مبارک گھر کو گھیر لیا تب ایک جانی عزیز جس کا وجود محبت اور ایمان سے خمیر کیا گیا تھا۔جانبازی کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر باشارہ نبوی اس غرض سے مونہہ چھپا کر لیٹ رہا کہ تا مخالفوں کے جاسوس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نکل جانے کی کچھ تفتیش نہ کریں اور اسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر قتل کرنے کے لئے ٹھہرے رہیں۔کس بہر کسے سرند ہر جان نفشاند عشق است که این کار بصد صدق کناند سو جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس وفادار اور جان نثار عزیز کو اپنی جگہ چھوڑ کر چلے گئے تو آخر تفتیش کے بعد ان نالائق بد باطن لوگوں نے تعاقب کیا اور چاہا کہ راہ میں کسی جگہ پا کر قتل کر ڈالیں اس وقت اور اس مصیبت کے سفر میں بجز ایک با اخلاص اور یکرنگ اور دلی دوست کے اور کوئی انسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نہ تھا۔ہاں ہر وقت اور نیز اس 123