سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 122 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 122

باب چهارم ہجرت مدینہ مکہ سے شمال کی طرف تقریباً اڑھائی سو میل کے فاصلہ پر مدینہ شہر ہے۔اس کا قدیم نام یثرب تھا۔آنحضور صلی می زنم کی مکہ سے مدینہ ہجرت کے بعد اس کا نام مدینتہ النبی ہو گیا۔اور پھر صرف مدینہ رہ گیا۔لیکن عقیدت مندان رسول اس شہر کو مدینہ منورہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔کیونکہ یہ وہ مقدس بستی ہے جس میں نبیوں کے سردار حضرت محمد صلی علیہ یکم خدا کے حکم سے ہجرت کر کے تشریف لائے اور اپنا مسکن بنا کر اسے منور کر دیا۔اور اس نور سے تمام عالم کو منور کر دیا۔مسلمان اگر مکہ کا نام آنے پر کعبہ کی یاد میں ڈوب جاتے ہیں تو مدینہ کا نام آنے پر مدینہ کے نور محمد مصطفی صل الی یکم کی یاد میں آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔اس باب میں ہم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ یثرب مدینہ النبی کیسے بنا اور کیونکر اسکے نور سے دنیا منور ہو گئی۔آنحضور صلی الم کا خواب: مکہ میں جب مسلمانوں کا رہنا دو بھر ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے آنحضور صلی اللہ ہم کو ہجرت کے متعلق ایک خواب کے ذریعہ سے خبر دی۔اس خواب کا ذکر کئی کتب میں ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس خواب کا ذکر اپنی تحریرات میں بھی فرمایا ہے۔جیسا کہ فرمایا: قال ابو موسى عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم رأيت في المنام اني اهاجر من الى ارض بها نخل فذهب وهلى الى انها اليمامة او هجر فاذا هي المدينة يثرب۔مكة یعنی ابو موسی سے روایت ہے جو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی زمین کی طرف ہجرت کرتا ہوں جس میں کھجوریں ہیں پس میر اوہم اس طرف گیا کہ وہ بیامہ یا ہجر ہو گا مگر آخر وہ مدینہ نکلا جس کو میٹر ب بھی کہتے ہیں“ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 204) مکہ میں جب مسلمانوں کا رہنا دو بھر ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے آنحضور صلی علی یم کو ہجرت کے متعلق ایک خواب کے ذریعہ سے خبر دی۔اس خواب میں جگہ کا نام اور وقت کی تعیین نہ تھی صرف یہ اشارہ تھا کہ وہ ایک سر سبز و شاداب جگہ ہو گی۔آپ صلی للی کم کا خیال یمامہ اور حجر کی طرف اس لئے گیا کیونکہ وہ عرب کے مشہور سر سبز علاقے تھے۔یمامہ 122