سیرة النبی ﷺ — Page 110
پاس کتاب اللہ نہیں اس کا مذہب ہی کیا ہوا۔کیا گالیاں دینا اور گھر بیٹھ کر دوسروں پر اور مرے ہوؤں پر تبرے بھیجتے رہنا یہ بھی کوئی مذہب ہے ؟“ شق قمر شق قمر کا ذکر قرآن کریم میں ان الفاظ میں ہوا ہے۔( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 5 صفحہ 448) اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ۔وَإِنْ يَرَوْا أَيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرُ مُسْتَمِرٌّ۔وَكَذَّبُوا وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ وَكُلُّ أَمْرٍ مُسْتَقِرٌّ (سورة القمر: 2-4) ساعت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔اور اگر وہ کوئی نشان دیکھیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیشہ کی طرح کیا جانے والا جادو ہے۔اور انہوں نے جھٹلا دیا اور اپنی خواہشات کی پیروی کی ( اور جلد بازی سے کام لیا) حالانکہ ہر آمر اپنے وقت پر) قرار پکڑنے والا ہوتا ہے۔مسلمان ابھی شعب ابی طالب میں ہی تھے کہ یہ معجزہ رونما ہوا تھا۔بعض کفار نے آپ صلی اللہ تم سے معجزہ طلب کیا جس پر آپ صلی الم نے خدا تعالیٰ کے تصرف سے یہ معجزہ دکھایا۔چاند کا ایک ٹکڑا جبل حرا کے ایک طرف اور دوسرا دوسری طرف دکھائی دیتا تھا۔(37) یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ آنحضور صلی الی یوم صحابہ کے ساتھ مٹی میں تھے کہ جب یہ شق القمر ہوا۔جس پر آپ میلی لی ہم نے فرمایا دیکھو اور گواہ رہو۔(38) اہل عرب چاند کو حکومت کی علامت سمجھتے تھے جسکا اشارہ حضرت صفیہ کے اس خواب والے واقعہ سے بھی ملتا ہے جس میں انہوں نے چاند کو اپنی جھولی میں گرا ہوا دیکھا تھا۔اس کی تعبیر بادشاہت کی گئی تھی۔(39) اس لئے انکے لئے شق قمر کا نشان انذار کے رنگ میں تھا کہ اب نہ صرف عرب بلکہ دنیا کی حکومتیں ختم ہو کر نئی حکومت یعنی اسلام کی حکومت قائم ہونے کا وقت ہے۔آپ نے اپنی تحریرات میں بڑی تفصیل سے اس معجزہ کی حقیقت بیان کی ہے اور اس پر اُٹھنے والے اعتراضات کا جواب دیا ہے۔اور واقعہ پر مختلف پہلووں سے روشنی ڈالی ہے۔یہ واقعہ اپنے اندر جو نشان اور پیغام رکھتا ہے اسے بھی سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے انکو بھی بیان فرمایا ہے۔ایک ہند و لالہ مرلیدھر صاحب 110