سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 108 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 108

ہے معراج ہوا۔پھر آپ نے اس امر کی تائید میں چند آیات سے استدلال کیا کہ جسم آسمان پر نہیں جاتا یہ باتیں قریبا پہلے ہم بار بار درج کر چکے ہیں بخوف طوالت اعادہ نہیں کرتے “ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن جلد 2 صفحہ 446) "وأما معراج رسولنا فكان أمرا إعجازيًا من عالم اليقظة الروحانية اللطيفة الكاملة، فقد عرج رسول الله صلی الله عليه وسلم بجسمه إلى السّماء وهو يقظان لا شك فيه ولا فقد ريب، ولكن مع ذلك ما الله۔عنهن۔وكذلك كثير من الصحابة۔فأنت تعلم وتفهم أنّ قصّة المعراج شيء آخر لا يضاهيه قصة صعود عيسى عليه السّلام إلى السماء، وإن كنت تشك فيه فارجع إلى البخارى، وما أظن أن تبقى بعده من المرتابين“ جسمه من السرير كما شهد عليه بعض أزواجه رضى (حمامة البشرای، روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 220،219) حضور نے مندرجہ بالا تحریرات میں جہاں معراج کا ذکر کیا ہے اس سے مراد یہ دونوں سفر ہیں یعنی اسرا بھی شامل ہے کیونکہ نوعیت کے لحاظ سے ایک ہی قسم ہے اس لئے لفظ معراج ہی استعمال ہوا ہے۔حضور نے اس کے متعلق جو اہم اور بنیادی بحث اور وضاحت طلب بات ہے اس کو واضح فرمایا ہے یعنی یہ کہ یہ سفر نہ تو معمولی خواب کے سفر تھے۔نہ جسد عنصری کے ساتھ تھے بلکہ کشفی رنگ میں ایک نورانی وجود کے ساتھ تھے۔معراج اور اسرا کے متعلق یہی بحث زیادہ اہم ہے کیونکہ اس کے حل سے ہی عرش الہی ، نبی اکرم صلی علیکم کا بشری یا نورانی ہونا، جنت کی حقیقت اور کشف کی حقیقت، وفات وحیات مسیح وغیرہ کی بحثوں کے متعلق اصولی رہنمائی ملتی ہے۔اس مسئلہ کو آپ نے ان ارشادات میں دلائل کے ساتھ حل فرمایا ہے۔اور کشوف کا ذاتی تجربہ رکھنے کی وجہ سے اس کیفیت کا آپ عرفان رکھتے تھے۔پھر یہ کہ آپ نے اس کے لئے منقولی دلائل ازواج مطہرات اور صحابہ کا بھی معراج کے روحانی سفر کا قائل ہونا بیان کیا ہے۔حضور نے ثُم استيقظ یعنی ( پھر آپ صلی علیہ کم بیدار ہو گئے) والی حدیث کا ذکر فرمایا ہے۔بخاری میں معراج کے متعلق احادیث متعدد جگہوں پر بیان ہوئی ہیں۔بخاری کتاب التوحید میں حدیث موجود ہے جس میں آخر میں ثمّ استیقظ کے الفاظ ہیں۔نیز ابن ہشام نے روایت درج کی ہے کہ حضرت عائشہ فرمایا کرتی تھیں کہ اسراء کے وقت آنحضور کا جسم غائب نہیں ہو ابلکہ اللہ نے آپ صلی الم کا روحانی اسرا کرایا تھا 108