سیرة النبی ﷺ — Page 88
دن رات تدبیروں منصوبوں میں کوشاں ہوئے مگر دوسری طرف مسیلمہ تھا ادھر کسی کو توجہ نہ تھی۔اس کی مخالفت کے واسطے کسی کے کان بھی کھڑے نہ ہوئے۔آنحضرت صلی الم کے واسطے جس طرح گھر گھر میں پھوٹ اور جدائی ہوتی تھی۔مسیلمہ کے واسطے ہر گز نہ ہوئی۔غرض صادق کے واسطے ہی ایک کشش ہوتی ہے جو دلوں کے ولولوں کو ابھارتی اور جوش میں لاتی ہے۔سعیدوں کے ولولے سعادت اور اشقیاء کے شقاوت کے رنگ میں پھل لاتے ہیں شقی چونکہ اسی فطرت کے ہوتے ہیں۔اس واسطے ان کے واسطے کشش بھی الٹے رنگ میں ثمرات لاتی ہے“ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 3 صفحہ 246) ایلام یعنی دُکھ برنگ انعام: وہ دکھ جو کسی کی محبت میں اٹھایا جاتا ہے اپنے اندر ایک لذت رکھتا ہے۔اور خدا کے عاشق و محب سب سے زیادہ اس محبت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے دکھوں پر لذت و سرور اٹھاتے ہیں۔بلکہ ہر راحت اس محبت کی خاطر قربان کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔مثلاً حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیھما السلام نے اپنی جانوں اور وطنوں کی قربانی میں خوشی محسوس کی اور حضرت یوسف نے خدا کی محبت میں قید خانہ کی تکلیف کو آزادی پر ترجیح دی۔الغرض ہر نبی ومامور من اللہ کے حالات زندگی اس بات کو واضح کرتے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام آنحضور صلی یم اور آپ کے صحابہ پر آنے والی مشکلات کی حکمت بیان کرتے ہوئے وضاحت فرماتے ہیں کہ خدا سے عشق اور محبت کی وجہ سے وہ دکھوں اور تکلیفوں میں اعلیٰ درجہ کی لذت حاصل کرتے تھے۔ہر تکلیف کے نتیجہ میں ان کے اندر ایک سرور اور لذت کا چشمہ پھوٹ نکلتا تھا اور یہی مومن کی نشانی ہے کہ وہ ہر وقت خدا کی راہ میں قربانی کے لئے آمادہ رہتا ہے اور اس راہ میں شہید ہونے کو بھی تیار ہوتا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔یاد رکھو مومنوں کا ایلام برنگ انعام ہو جاتا ہے۔اور اس سے عوام کو حصہ نہیں دیا جاتا۔رسول اللہ علی ایم کی تیرہ سالہ زندگی جو مکہ میں گزری اس میں جس قدر مسائل اور مشکلات آنحضرت صلی الله ولم پر آئیں ہم تو ان کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔دل کانپ اٹھتا ہے جب ان کا تصور کرتے ہیں۔اس سے رسول اللہ صلی الم کی اعلیٰ حوصلگی، فراخدلی اور استقلال اور عزم واستقامت کا پتہ لگتا ہے کیسا کوہ وقار انسان ہے کہ مشکلات کے پہاڑ ٹوٹے پڑتے ہیں مگر اس کو ذرا بھی جنبش نہیں دے سکتے۔وہ اپنے منصب کے ادا کرنے میں ایک لمحہ ست اور غمگین نہیں ہوا۔وہ مشکلات اسکے ارادے کو تبدیل نہیں 88