سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 87 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 87

تھا کہ وہ ایمان کی حقیقت کو نہیں سمجھتے تھے۔اور چاہتے تھے کہ جب تک دوسرے امور مشہودہ محسوسہ کی طرح انبیاء کی نبوت اور ان کی تعلیم کھل نہ جائے۔تب تک قبول کرنا مناسب نہیں۔اور وہ بے وقوف یہ خیال نہیں کرتے تھے کہ کھلی ہوئی چیز کو مانا ایمان میں کیو نکر داخل ہو گا۔وہ تو ہندسہ اور حساب کی طرح ایک علم ہوا نہ کہ ایمان۔پس یہی حجاب تھا کہ جسکی وجہ سے ابو جہل اور ابو لہب وغیرہ اوائل میں ایمان لانے سے محروم رہے۔اور پھر جب اپنی تکذیب میں پختہ ہو گئے اور مخالفانہ راؤں پر اصرار کر چکے اس وقت آنحضرت صلی اللہ علم کی صداقت کے کھلے کھلے نشان ظاہر ہوئے تب انہوں نے کہا کہ اب قبول کرنے سے مرنا بہتر ہے۔غرض نظر دقیق سے صادق کے صدق کو شناخت کرنا سعیدوں کا کام ہے۔اور نشان طلب کرنا نہایت منحوس طریق اور اشقیاء کا شیوہ ہے۔جس کی وجہ سے کروڑہا منکر ہیزم جہنم ہو چکے ہیں۔خدائے تعالیٰ اپنی سنت کو نہیں بدلتا" مخالفت صداقت کی علامت: (مکتوبات احمد ، جدید ایڈیشن، جلد 2، مکتوب نمبر 8 ملفوف، صفحہ 178،177) مامورین کی صداقت کی ایک واضح علامت مخالفت و استہزاء ہے جیسا کہ قرآن کریم میں مذکورہے کہ يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ“ وائے حسرت بندوں پر ! ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا مگر وہ اس سے ٹھٹھا کرنے لگتے ہیں۔(يس:31) دنیا میں کئی مدعیان ہوئے ہیں۔ان میں سے بعض نے تو خدائی تک کے دعوے کئے ہیں اور نبوت اور امامت کا دعویٰ کرنے والے بیشمار ہیں وہ لوگوں کو التجا سے دعوت دیتے رہے ہیں کہ انکی مخالفت کی جائے تا ان کی شہرت بھی ہو اور مذکورہ بالا آیت اور انبیاء صادقہ کی سنت سے تصدیق ہو لیکن کوئی انکی مخالفت پر وقت صرف کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ہاں جو خدا کی طرف سے ہوں انکی مخالفت نہایت زور و شور سے ہوتی ہے۔جو انکی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہے۔آپ نے اس مضمون پر ان الفاظ میں روشنی فرمائی ہے۔آنحضرت علم کے زمانہ بعثت میں ہزاروں ہزار لوگ اپنے کاروبار چھوڑ کر بھی آپکی مخالفت کے لئے کمر بستہ ہوئے۔اپنے مالوں کا جانوں کا نقصان منظور کیا۔اور آنحضرت صلی کم کی مخالفت کے لئے 87