سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 86 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 86

مخالفوں نے بباعث اس تکبر کے جو فطرتا ایسے فرقوں کے دل اور دماغ میں جاگزیں ہوتا ہے جو اپنے تئیں دولت میں مال میں کثرت جماعت میں عزت میں مرتبت میں دوسرے فرقہ سے بر تر خیال کرتے ہیں اس وقت کے مسلمانوں یعنی صحابہ سے سخت دشمنی کا برتاو کیا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ آسمانی پودا زمین پر قائم ہو بلکہ وہ ان راستبازوں کے ہلاک کرنے کے لئے اپنے ناخنوں تک زور لگا رہے تھے اور کوئی دقیقہ آزار رسانی کا اٹھا نہیں رکھا تھا اور ان کو خوف یہ تھا کہ ایسا نہ ہو کہ اس مذہب کے پیر جم جائیں اور پھر اس کی ترقی ہمارے مذہب اور قوم کی بربادی کا موجب ہو جائے۔سو اسی خوف سے جو ان کے دلوں میں ایک رعبناک صورت میں بیٹھ گیا تھا نہایت جابرانہ اور ظالمانہ کاروائیاں ان سے ظہور میں آئیں“ مذہبی امور میں عدم دلچسپی : ( گونمنٹ انگریزی اور جہاد ، روحانی خزائن جلد 17 ، صفحہ 3 تا5) قوموں میں جب گمراہی عام ہوتی ہے تو ایک وبال یہ بھی آتا ہے کہ دنیاوی ترجیہات سبقت لے جاتی ہیں اور مذہب میں عدم دلچپسی عام ہو جاتی ہے۔اور قوم بحیثیت مجموعی حقیقی دینی علوم سے محروم ہو جاتی ہے اور لوگ خالص علمی و دینی امور کو بھی دنیاوی طور طریق پر محمول کرنے لگتے ہیں۔اس حقیقت کو بھی آپ نے انبیاء کی مخالفت کی ایک وجہ بیان فرمایا ہے جیسا کہ فرمایا جن قوموں سے ہمارے نبی ملی لی کم کا واسطہ پڑا ان کو مذہبی امور میں دلائل سننے یا دلائل سنانے سے کچھ غرض نہ تھی بلکہ انہوں نے اٹھتے ہی تلوار کے ساتھ اسلام کو نابود کرنا چاہا اور عقلی طور پر اسے رڈ کرنے کیلئے قلم نہیں اٹھائی“ ایمان کی حقیقت سے ناواقفیت : (چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 92) حضور نے انبیاء کی مخالفت کی ایک وجہ ایمان کی حقیقت سے ناواقفیت بیان فرمائی ہے جیسا کہ فرمایا۔سعید آدمی کی پہلی نشانی یہی ہے کہ اس بابرکت بات کو سمجھ لے کہ ایمان کس چیز کو کہا جاتا ہے۔کیونکہ جس قدر ابتدائے دنیا سے لوگ انبیاء کی مخالفت کرتے آئے ہیں انکی عقلوں پر یہی پردہ پڑا ہوا 86