سیرة النبی ﷺ — Page 68
کرتے تھے۔مگر خدا تعالیٰ کا حکم ہوا۔يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرُ (المدثر:2-3) اس حکم میں ایک جبر معلوم ہوتا ہے اور اسی لیے جبر سے حکم دیا گیا کہ آپ تنہائی کو جو آپ کو بہت پسند تھی اب چھوڑ دیں“ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن] - جلد 4، صفحہ 34) میں دیکھتا ہوں کہ گرمیوں کو بھی روحانی ترقی کے ساتھ خاص مناسبت ہے۔آنحضرت علی الم کو دیکھو کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے مکہ جیسے شہر میں پیدا کیا اور پھر آپ ان گرمیوں میں تنہا غارِ حرا میں جا کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے وہ کیسا عجیب زمانہ ہو گا۔آپ ہی ایک پانی کا مشکیزہ اُٹھا کر لے جاتے ہوں گے“ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن۔جلد 4، صفحہ 316) محضرت علی الله علم کو ہر گز خواہش نہ تھی کہ لوگ آپ کو پیغمبر کہیں اور آپ کی اطاعت کریں اور اسی لیے ایک غار میں جو قبر سے زیادہ تنگ تھی جا کر آپ عبادت کیا کرتے تھے اور آپ کا ہر گز ارادہ نہ تھا کہ اس سے باہر آویں آخر خدا نے اپنی مصلحت سے آپ کو خود باہر نکالا اور آپ کے ذریعے دنیا پر اپنے نور کو ظاہر کیا“ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 3 صفحہ 619) تاریخ اسلام و کتب سیرت النبی صلی الم کے متعدد حوالوں سے یہ بات ثابت ہے کہ جب آپ کی عمر چالیس سال کے قریب ہوئی تو آپ کا دل اپنے خالق حقیقی کی طرف اس قدر کھینچا گیا کہ آپ اکثر وقت گوشہء تنہائی میں بسر کرنے لگے۔اس کے متعلق صحیح بخاری میں ایک روایت درج ہے کہ عن عائشة أم المؤمنين أنها قالت: أول ما بدىء به رسولُ الله صلى الله عليه وسلم من الوحي الرؤيا الصالحة في النوم، فكان لا يرى رؤيا إلا جاءت مثل فلق الصبح، ثم حبب إليه الخلاء، وكان يخلو بغار حراء، فيتحنث فيه - وهو التعبد - الليالي ذوات العدد قبل أن ينزع إلى أهله، ويتزود لذلك، ثم يرجع إلى خديجة فيتزود لمثلها، حتى جاءه الحق وهو في غار حراء، فجاءه الملک فقال : اقرأ، قال: (ما أنا بقارىء )۔قال: (فأخذني فغطنى حتى بلغ منى الجهد، ثم أرسلنى فقال: اقرأ، قلت ما أنا بقارئ، فأخذني فغطنى الثانية حتى بلغ م الجهد، ثم أرسلنى فقال اقرأ، فقلت: ما أنا بقارىء، فأخذني فغطني الثالثة، ثم أرسلنى فقال : (اقرأ باسم ربك الذي خلق خلق الإنسان من علق۔اقرأ وربك الأكرم)۔منی 68