سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 67 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 67

باب سوم غار حرا طلوع اسلام آنحضور صلی یکم کی عمر جب تقریباً چالیس برس کی ہوئی تو خلوت و تنہائی آپ کو محبوب ہو گئی۔اور اپنے خالق و مالک رب کی جستجو میں مشغول رہنے لگے۔اس عرصہ میں آپ غار حرا میں تشریف لے جاتے۔اور بہت سا وقت وہاں گزارتے۔اس مبارک دور کے متعلق سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔پھر جب آپ چالیس برس کے سن تک پہنچے تو یک دفعہ آپ کا دل خدا کی طرف کھینچا گیا۔ایک غار مکہ سے چند میل کے فاصلہ پر ہے۔جس کا نام حرا ہے۔آپ اکیلے وہاں جاتے اور غار کے اندر چھپ جاتے اور اپنے خدا کو یاد کرتے ایک دن اُسی غار میں آپ پوشیدہ طور پر عبادت کر رہے تھے تب خدا تعالیٰ آپ پر ظاہر ہوا اور آپ کو حکم ہوا کہ دنیا نے خدا کی راہ کو چھوڑ دیا ہے۔اور زمین گنہ سے آلودہ ہو گئی ہے۔اس لئے میں تجھے اپنار سول کر کے بھیجتا ہوں۔اب تو اور لوگوں کو متنبہ کر کہ وہ عذاب سے پہلے خدا کی طرف رجوع کریں۔اس حکم کے سننے سے آپ ڈرے کہ میں ایک امی یعنی ناخواندہ آدمی ہوں اور عرض کی کہ میں پڑھنا نہیں جانتا۔تب خدا نے آپ کے سینہ میں تمام روحانی علوم بھر دیئے اور آپ کے دل کو روشن کیا تھا۔آپ کی قوت قدسیہ کی تاثیر سے غریب اور عاجز لوگ آپ کے حلقہ اطاعت میں آنے شروع ہو گئے۔اور جو بڑے بڑے آدمی تھے انہوں سے دشمنی پر کمر باندھ لی۔یہاں تک کے آخر کار آپ کو قتل کرناچاہا“ (پیغام صلح، روحانی خزائن جلد 23، صفحہ 466-465) انبیاء کی طبیعت اسی طرح واقع ہوتی ہے کہ وہ شہرت کی خواہش نہیں کیا کرتے کسی نبی نے کبھی شہرت کی خواہش نہیں کی۔ہمارے نبی کریم ملی کم بھی خلوت اور تنہائی کو ہی پسند کرتے تھے۔آپ عبادت کرنے کے لیے لوگوں سے دور تنہائی کی غار میں جو غارِ حرا تھی چلے جاتے تھے۔یہ غار اس قدر خوفناک تھی کہ کوئی انسان اس میں جانے کی جرات نہ کر سکتا تھا۔لیکن آپ نے اس کو اس لیے پسند کیا ہوا تھا کہ وہاں کوئی ڈر کے مارے بھی نہ پہنچے گا۔آپ بالکل تنہائی چاہتا تھے۔شہرت کو ہر گز پسند نہیں 67