سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 25 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 25

لیکن قوم پرستی نے ان کو یہ صداقت قبول کرنے سے روک دیا کہ بنی اسرائیل کے علاوہ انکے بھائیوں بنی اسماعیل میں نبی بر پا ہو سکتا ہے۔حالانکہ وہ تمام علامات آنحضور صلی علیکم میں موجود پاتے تھے۔تمام منقولی و معقولی دلائل سے قریش کا نسل اسماعیل ہونا ثابت ہے اس کے باوجو د جب کوئی اور چارہ نہ رہا تو جدید زمانہ کے مورخین نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ قریش کا اسماعیل سے کوئی تعلق نہیں۔مثلاً ولیم میور نے لکھا کہ اسماعیل کا عرب میں آباد ہونا اور قحطان عرب کے مورث اعلیٰ تھے اور قریش اسماعیلی روایات مثلاً کعبہ کا طواف حجر اسود کا بوسہ اور حج کے مناسک کے امین تھے وغیرہ تمام من گھڑت قصے ہیں۔اسکے نزدیک عربوں میں یہ تمام رسوم و روایات یہودیوں سے سن کر راہ پاگئی ہوں گی۔(18) لیکن جیسا کہ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے آنحضور صلی یی کم نسل اسماعیل سے تھے اس بات کے لئے کافی دلائل موجود ہیں جن میں سے چند یہاں پیش کئے جاتے ہیں۔عرب کی تاریخ کا ایک نہایت اہم ماخذ قرآن مجید ہے اور عرب کے جو تاریخی حقائق قرآن نے بیان فرمائے ہیں انہیں خود اس وقت کے عربوں نے بھی جھٹلایا نہیں تھا بلکہ اس سے متفق نظر آتے ہیں۔قرآن مجید میں بھی قریش کو نسل اسماعیل سے قرار دیا گیا ہے۔وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ وَفِي هَذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَأتُوا الزَّكَاةَ وَاعْتَصِمُوا بِاللهِ هُوَ مَوْلَاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ (الحج:79) اور اللہ کے تعلق میں جہاد کرو جیسا کہ اس کے جہاد کا حق ہے۔اس نے تمہیں چن لیا ہے اور تم پر دین کے معاملات میں کوئی تنگی نہیں ڈالی۔یہی تمہارے باپ ابراہیم کا مذہب تھا۔اُس (یعنی اللہ ) نے تمہارا نام مسلمان رکھا (اس سے) پہلے بھی اور اس (قرآن) میں بھی تاکہ رسول تم سب پر مگر ان ہو جائے اور تاکہ تم تمام انسانوں پر نگران ہو جاؤ۔پس نماز کو قائم کرو اور زکوۃ دو اور اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لو۔وہی تمہارا آقا ہے۔پس کیا ہی اچھا آقا اور کیا ہی اچھا مدد گار ہے۔حدیث کی روایات میں بھی بکثرت ایسی روایات موجود ہیں جن سے آنحضور صلی علیکم کا قریش میں سے ہونا ثابت ہے۔مثلاً بخاری کتاب بدء الخلق میں ابن عباس سے مروی ایک لمبی روایت ہے جس میں حضرت ابراہیم کا حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ کو مکہ کی بے آب و گیاہ ویرانہ میں چھوڑنے اور مکہ شہر کی آبادی اور قریش کے تاریخی حالات تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں۔(19) بخاری کتاب المناقب میں نبی اکرم صلی للی کم کا قریش میں سے ہونا اور 25