سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 9 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 9

اصولوں کو بھی تباہ کیا۔جہاں جتنی کتابیں ویدوں وغیرہ کی پائیں انہیں تلف کیا۔آریوں پر بہت سا حکومت کا زور بھی چلایا اور تکلیف دی۔جب انکو خوف اور خطرہ نہ رہا تب اپنے مت والے گرہستی اور سادھووں کی عزت اور وید کے پیرؤوں کی بے عزتی کرنے لگے۔اور طرف داری سے سزا بھی دینے لگے۔اور خود عیش و آرام اور غرور میں ہو پھول کر پھرنے لگے۔شجھ دیر سے لیکر مہابیر تک اپنے تیر تھنکروں کے بڑے بڑے بت بنا کر پرستش کرنے لگے۔یعنی پاشان وغیرہ مورتی کی بنیاد جینیوں سے پھیلی پر میشر کا مانا کم ہوا پتھر کی مورتی پوجا میں مصروف ہو گئے۔ایسی تین سو برس تک آریہ ورت میں جینوں کی حکومت رہی۔بہت لوگ وید کے حکم سے ناواقف ہو گئے۔اس بات کو تقریبا اڑھائی ہزار برس گزرے ہوں گے (13) یہود کی حالت: یہود جو انبیاء کی اولاد اور اہل کتاب کہلاتے تھے انکی دینی و اخلاقی بد حالی کے بارہ میں بھی بڑی تفصیل کے ساتھ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے: اور خود کسی تاریخ دان اور واقف حقیقت کو اس سے بے خبری نہیں ہوگی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت تک ہر یک قوم کی ضلالت اور گمراہی کمال کے درجہ تک پہنچ چکی تھی اور کسی صداقت پر کامل طور پر ان کا قیام نہیں رہا تھا۔چنانچہ اگر اول یہودیوں ہی کے حال پر نظر کریں تو ظاہر ہو گا کہ ان کو خدائے تعالیٰ کی ربوبیت تامہ میں بہت سے شک اور شبہات پیدا ہو گئے تھے اور انہوں نے ایک ذات رب العالمین پر کفایت نہ کر کے صدہا ارباب متفرقہ اپنے لئے بنارکھے تھے یعنی مخلوق پرستی اور دیوتا پرستی کا بغایت درجہ ان میں بازار گرم تھا۔جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حال قرآن شریف میں بیان کر کے فرمایا ہے۔اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ یعنی یہودیوں نے اپنے مولوی اور درویشوں کو کہ جو مخلوق اور غیر خدا ہیں، اپنے رب اور قاضی الحاجات ٹھہر ارکھے ہیں۔اور نیز اکثروں کا یہودیوں میں سے بعض نیچریوں کی طرح یہ اعتقاد ہو گیا تھا کہ انتظام دنیا کا قوانین منضبطہ متعینہ پر چل رہا ہے اور اس قانون میں مختارانہ تصرف کرنے سے خدائے تعالیٰ قاصر اور عاجز ہے۔گویا اس کے دونوں ہاتھ بندھے ہوئے ہیں نہ اس قاعدہ کے بر خلاف کچھ ایجاد کر سکتا ہے اور نہ فنا کر سکتا ہے بلکہ جب سے کہ اس نے اس عالم کا ایک خاص طور پر شیر ازہ باندھ کر اس کی پیدائش سے فراغت پالی ہے تب سے یہ کل اپنے ہی پرزوں کی صلاحیت کی وجہ سے خود بخود چل رہی ہے اور