سیرة النبی ﷺ — Page 259
تھی اور اسی طرح آسمان پر بھی آپ کی تعریف ہوتی تھی اور آسمان پر بھی آپ محمد تھے یہ نام آپ کا اللہ تعالیٰ نے بطور نمونہ کے دنیا کو دیا ہے“ آنحضرت علی ایم کی زندگی کے دو زمانے: (ملفوظات[2003 ایڈیشن] جلد 2 صفحہ 62،61) خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح کو دو حصوں پر منقسم کر دیا۔ایک حصہ دکھوں اور مصیبتوں اور تکلیفوں کا اور دوسرا حصہ فتحیابی کا۔تا مصیبتوں کے وقت میں وہ خلق ظاہر ہوں جو مصیبتوں کے وقت ظاہر ہوا کرتے ہیں اور فتح اور اقتدار کے وقت میں وہ خلق ثابت ہوں جو بغیر اقتدار کے ثابت نہیں ہوتے۔سو ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں قسم کے اخلاق دونوں زمانوں اور دونوں حالتوں کے وارد ہونے سے کمال وضاحت سے ثابت ہو گئے۔چنانچہ وہ مصیبتوں کا زمانہ جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تیرہ برس تک مکہ معظمہ میں شامل حال رہا۔اس زمانہ کی سوانح پڑھنے سے نہایت واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اخلاق جو مصیبتوں کے وقت کامل راستباز کو دکھلانے چاہئیں یعنی خدا پر توکل رکھنا اور جزع فزع سے کنارا کرنا اور اپنے کام میں ست نہ ہونا اور کسی کے رعب سے نہ ڈرنا ایسے طور پر دکھلا دیئے جو کفار ایسی استقامت کو دیکھ کر ایمان لائے اور شہادت دی کہ جب تک کسی کا پورا بھروسہ خدا پر نہ ہو تو اس استقامت اور اس طور سے دکھوں کی برداشت نہیں کر سکتا۔اور پھر جب دوسرا زمانہ آیا یعنی فتح اور اقتدار اور ثروت کا زمانہ ، تو اس زمانہ میں بھی آنحضرت صل الله یم کے اعلیٰ اخلاق عفو اور سخاوت اور شجاعت کے ایسے کمال کے ساتھ صادر ہوئے جو ایک گروہ کثیر کفار کا انہی اخلاق کو دیکھ کر ایمان لایا۔دکھ دینے والوں کو بخشا اور شہر سے نکالنے والوں کو امن دیا۔ان کے محتاجوں کو مال سے مالا مال کر دیا اور قابو پا کر اپنے بڑے بڑے دشمنوں کو بخش دیا۔چنانچہ بہت سے لوگوں نے آپ کے اخلاق دیکھ کر گواہی دی کہ جب تک کوئی خدا کی طرف سے اور حقیقتاراستباز نہ ہو یہ اخلاق ہر گز دکھلا نہیں سکتا۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے دشمنوں کے پرانے کینے یکلخت دور ہو گئے۔آپ کا بڑا بھاری خلق جس کو آپ نے ثابت کر کے دکھلا دیاوہ خلق تھا جو قرآن شریف میں ذکر فرمایا گیا ہے اور وہ یہ ہے۔قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الانعام: 163) یعنی 259