سیرة النبی ﷺ — Page 212
نہیں سمجھتے اور نہ اس کے قوانین کو حکیمانہ تحقیقاتوں پر مبنی سمجھتے ہیں بلکہ قوانین بنانے کا اصول رعایا کی کثرت رائے ہے۔گورنمنٹ پر کوئی وحی نازل نہیں ہوتی تا وہ اپنے قوانین میں غلطی نہ کرے اگر ایسے ہی قوانین محفوظ ہوتے تو ہمیشہ نئے نئے قانون کیوں بنتے رہتے انگلستان میں لڑکیوں کے بلوغ کا زمانہ (۱۸) برس قرار دیا ہے اور گرم ملکوں میں تو لڑکیاں بہت جلد بالغ ہو جاتی ہیں۔آپ اگر گورنمنٹ کے قوانین کو کالوحى من السماء سمجھتے ہیں کہ ان میں امکان غلطی نہیں۔تو ہمیں بواپسی ڈاک اطلاع دیں تا انجیل اور قانون کا تھوڑا سا مقابلہ کر کے آپ کی کچھ خدمت کی جائے۔غرض گورنمنٹ نے اب تک کوئی اشتہار نہیں دیا کہ ہمارے قوانین بھی توریت اور انجیل کی طرح خطا اور غلطی سے خالی ہیں اگر آپ کو کوئی اشتہار پہنچا ہو تو اس کی ایک نقل ہمیں بھی بھیج دیں پھر اگر گورنمنٹ کے قوانین خدا کی کتابوں کی طرح خطا سے خالی نہیں تو ان کا ذکر کرنا یا تو حمق کی وجہ سے ہے یا تعصب کے سبب سے مگر آپ معذور ہیں اگر گورنمنٹ کو اپنے قانون پر اعتماد تھا تو کیوں ان ڈاکٹروں کو سزا نہیں دی جنہوں نے حال میں یورپ میں بڑی تحقیقات سے نو 9 برس بلکہ سات برس کو بھی بعض عورتوں کے بلوغ کا زمانہ قرار دے دیا ہے اور نو و برس کی عمر کے متعلق آپ اعتراض کر کے پھر توریت یا انجیل کا کوئی حوالہ نہ دے سکے صرف گورنمنٹ کے قانون کا ذکر کیا اس سے معلوم ہوا کہ آپ کا توریت اور انجیل پر ایمان نہیں رہا۔ورنہ نو برس کی حرمت یا تو توریت سے ثابت کرتے یا انجیل سے ثابت کرنی چاہیئے تھی“ (نور القرآن نمبر 2، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 377، 379) پادری صاحب! آپ کا یہ خیال کہ نو ۹ برس کی لڑکی سے جماع کرناز نا کے حکم میں ہے سراسر غلط ہے آپ کی ایمانداری یہ تھی کہ آپ انجیل سے اس کو ثابت کرتے۔انجیل نے آپ کو دھکے دئے اور وہاں ہاتھ نہ پڑا تو گورنمنٹ کے پیروں پر آپڑے۔یاد رکھیں کہ یہ گالیاں محض شیطانی تعصب سے ہیں۔جناب مقدس نبوی کی نسبت فسق و فجور کی تہمت لگانا یہ افتر اشیطانوں کا کام ہے ان دو مقدس نبیوں پر یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح علیہ السلام پر بعض بد ذات اور خبیث لوگوں نے سخت افترا کئے ہیں۔چنانچہ ان پلیدوں نے لعنۃ اللہ علیہم پہلے نبی کو تو زانی قرار دیا جیسا کہ آپ نے اور 212