سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 194 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 194

يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا۔(النصر : 2 (3) آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ فوج در فوج لوگ اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرمایا کہ اس سے وفات کی بُو آتی ہے کیونکہ وہ کام جو میں چاہتا تھا وہ تو ہو گیا اور اصل قاعدہ یہی ہے کہ انبیاء علیہم السلام اسی وقت تک دنیا میں رہتے ہیں جب تک وہ کام جس کے لیے وہ بھیجے جاتے ہیں نہ ہوئے۔جب وہ کام ہو چکتا ہے تو ان کی رحلت کا زمانہ آجاتا ہے جیسے بندوبست والوں کا جب کام ختم ہو جاتا ہے تو وہ اس ضلع سے رخصت ہو جاتے ہیں۔اسی طرح پر جب آیت شریفہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (المائدہ: 4) نازل ہوئی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ جس پر بڑھاپے کے آثار ظاہر ہونے لگے تھے۔اس آیت کو سن کر رونے لگے۔صحابہ میں سے ایک نے کہا کہ اے بڑھے اتجھے کس چیز نے رُلایا۔آج تو مومنوں کے لیے بڑی خوشی کا دن ہے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تو نہیں جانتا اس آیت سے آنحضرت صلی ا کرم کی وفات کی بُو آتی ہے دنیا میں اسی طرح پر قاعدہ ہے کہ جب مثلاً محکمہ نبد وبست ایک جگہ کام کرتا ہے اور وہ کام ختم ہو جاتا ہے تو پھر وہ عملہ وہاں نہیں رہتا ہے۔اسی طرح انبیاء ورُ سُل علیہم السلام دنیا میں آتے ہیں۔اُن کے آنے کی ایک غرض ہوتی ہے اور جب وہ پوری ہو جاتی ہے پھر وہ رخصت ہو جاتے ہیں، لیکن میں آنحضرت مصلی کم کو جب دیکھتا ہوں تو آپ سے بڑھ کر کوئی خوش قسمت اور قابل فخر ثابت نہیں ہوتا۔کیونکہ جو کامیابی آپ کو حاصل ہوئی وہ کسی اور کو نہیں ملی۔آپ ایسے زمانہ میں آئے کہ دنیا کی حالت مسخ ہو چکی تھی اور وہ مجذوم کی طرح بگڑی ہوئی تھی اور آپ اس وقت رخصت ہوئے جب آپ نے لاکھوں انسانوں کو ایک خدا کے حضور جھکا دیا اور توحید پر قائم کر دیا۔آپ کی قوت قدسی کی تاثیر کا مقابلہ کسی نبی کی قوتِ قدسی نہیں کر سکتی۔حضرت عیسی علیہ السلام ایسی حالت میں منقطع ہوئے کہ وہ حواری جو بڑی محنت سے تیار کئے تھے جن کو رات دن ان کی صحبت میں رہنے کا موقعہ ملتا تھا وہ بھی پورے طور پر مخلص اور وفادار ثابت نہ ہوئے اور خود حضرت مسیح کو اُن کے ایمان اور اخلاص پر شک ہی رہا یہانتک کہ وہ آخری وقت جو مصیبت اور مشکلات کا وقت تھا وہ حواری ان کو چھوڑ کر چلے گئے۔ایک نے گرفتار کرا دیا اور دوسرے نے سامنے کھڑے ہو کر تین مرتبہ لعنت کی۔اس سے بڑھ کر ناکامی اور کیا ہو گی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے اولوالعزم نبی بھی راستہ ہی میں فوت ہو گئے اور وہ ارض مقدس کی کامیابی نہ دیکھ سکے اور ان کے بعد ان کا خلیفہ اور جانشین اس کا فاتح ہوا مگر آنحضرت ملا لی ایم کی پاک زندگی قابل فخر کامیابی کا نمونہ ہے اور وہ کامیابی 194