سیرة النبی ﷺ — Page 193
ور یہ آیتیں بھی نازل ہو گئیں کہ خدا تعالٰی نے ایمان اور تقویٰ کو ان کے دلوں میں لکھ دیا اور فسق اور فجور سے انہیں بیزار کر دیا اور پاک اور نیک اخلاق سے وہ متصف ہو گئے اور ایک بھاری تبدیلی ان کے اخلاق اور چلن اور روح میں واقع ہو گئی تب ان تمام باتوں کے بعد سورۃ النصر نازل ہوئی جس کا ما حصل یہی ہے کہ نبوت کے تمام اغراض پورے ہو گئے اور اسلام دلوں پر فتح یاب ہو گیا۔تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عام طور پر اعلان دے دیا کہ یہ سورت میری وفات کی طرف اشارہ کرتی ہے بلکہ اس کے بعد حج کیا اور اس کا نام حجتہ الوداع رکھا اور ہزارہ لوگوں کی حاضری میں ایک اونٹنی پر سوار ہو کر ایک لمبی تقریر کی اور کہا کہ سنو! اے خدا کے بند و امجھے میرے رب کی طرف سے یہ حکم ملے تھے کہ تا میں یہ سب احکام تمہیں پہنچا دوں پس کیا تم گواہی دے سکتے ہو کہ یہ سب باتیں میں نے تمہیں پہنچا دیں۔تب ساری قوم نے بآواز بلند تصدیق کی کہ ہم تک یہ سب پیغام پہنچائے گئے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اے خدا ان باتوں کا گواہ رہ اور پھر فرمایا کہ یہ تمام تبلیغ اس لئے مقرر کی گئی کہ شاید آئندہ سال میں تمہارے ساتھ نہیں ہونگا۔اور پھر دوسری مرتبہ تم مجھے اس جگہ نہیں پاؤ گے۔تب مدینہ میں جاکر دوسرے سال میں فوت ہو گئے اللھم صل علیہ وبارک وسلم در حقیقت یہ تمام اشارات قرآن شریف ہی سے مستنبط ہوتے ہیں جس کی تصدیق اسلام کی متفق علیہ تاریخ سے یہ تفصیل تمام ہوتی ہے“ (نور القرآن نمبر 1، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 361 تا 368) محضرت علی ایم کی دُعائیں دنیا کے لیے نہ تھیں بلکہ آپ کی دُعائیں یہ تھیں کہ بت پرستی دُور ہو جاوے اور خدا تعالیٰ کی توحید قائم ہو اور یہ انقلاب عظیم میں دیکھ لوں کہ جہاں ہزاروں بت پوجے جاتے ہیں وہاں ایک خدا کی پرستش ہو۔پھر تم خود ہی سوچو اور مکہ کے اس انقلاب کو دیکھو کہ جہاں بت پرستی کا اس قدر چر چا تھا کہ ہر ایک گھر میں بت رکھا ہو اتھا۔آپ کی زندگی ہی میں سارامکہ مسلمان ہو گیا اور ان بتوں کے پجاریوں ہی نے ان کو توڑا۔اور ان کی مذمت کی۔یہ حیرت انگیز کامیابی یہ عظیم الشان انقلاب کسی نبی کی زندگی میں نظر نہیں آتا۔جو ہمارے پیغمبر صلی اللہ ہم نے کر کے دکھایا۔یہ کامیابی آپ کی اعلیٰ درجہ کی قوت قدسی اور اللہ تعالیٰ سے شدید تعلقات کا نتیجہ تھا۔ایک وقت وہ تھا کہ آپ مکہ کی گلیوں میں تنہا پھر ا کرتے تھے اور کوئی آپ کی بات نہ سنتا تھا۔پھر ایک وقت وہ تھا جب آپ کے انقطاع کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو یاد دلایا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ 193